ٹیکس خور خلائی مخلوق

ہمارے ٹیکسوں پر پلتی خلائی مخلوق۔ ہمارے ٹیکسوں سے لی گئی بندوقیں۔ ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتی خلائی مخلوق۔ ہمارے ٹیکس،ہمارے ٹیکسوں وغیرہ وغیرہ۔ یہ گردان عام سنی ہوگی آپ نے مگر حساب نہیں کیا ہوگا۔ چنانچہ آج میں نے سوچا آپ احباب کے سامنے خلائی مخلوق کی ٹیکس خوری کا بھانڈہ پھوڑ ہی دوں

پہلے پہلے تو یہ بھی رٹ لگائی گئی تھی کافی عرصہ کہ خلائی مخلوق 70 سے 80 پرسنٹ بجٹ کھا جاتی ملک کا۔ خیر جب اس کے جواب میں ان دانشور حضرات کو فگرز نکال کر دکھائے گئے تو بوتھا شریف بند ہو گیا کیونکہ لیٹیسٹ بجٹ میں تمام تر انکریمنٹ لگنے کے بعد بھی ٹوٹل کا 18 پرسنٹ تھا جو دفاعی بجٹ کے لیئے مختص کیا گیا۔ چلیں اسی کو لے کر چلتے ہیں کہ ان 18 سے کیا کیا گلچھرے اڑاتی یہ فوج کیا کرتی ان 18 روپے میں۔


٨ لاکھ خلائی مخلوق کی نقل و حرکت کے لیئے گاڑیاں ان 18 روپے میں
ہزاروں گاڑیوں کا فیول ان 18 روپے میں
ہزاروں گاڑیوں کی مینٹینس/ریپیرنگ ان 18 روپے میں
میڈیکل ان 18 روپے میں
ادوایات ان 18 روپے میں
مشینری ان 18 روپے میں
میزائل ان 18 روپے میں
راکٹ ان 18 روپے میں
بمب ان 18 روپے میں
بندوقیں ان 18 روپے میں
گولیاں ان 18 روپے میں
ٹینک ان 18 روپے میں
توپیں ان 18 روپے میں
مارٹر ان 18 روپے میں
رہائیشیں ان 18 روپے میں
8 لاکھ خلائی مخلوق کا کھانا پینا ان 18 روپے میں
8 لاکھ خلائی مخلوق کی رہائش ان 18 روپے میں
8 لاکھ خلائی مخلوق کے یونیفارم ان 18 روپے میں
بیرکوں/کیمپوں کی تعمیر و مرمت ان 18 روپے میں
خلائی مخلوق دفتروں کی کرسی سے لے کر پینسل تک تمام فرنیچر ان 18 روپے میں سٹشنری ان 18 روپے میں
تمام تر فوجی جوانوں کی زمینی،ہوائی اور بحری ٹریننگ ان 18 روپے میں
موبائل اور فیلڈ فون سے لے کے واکی ٹاکی تک ساری کمیونیکیشن ان 18 روپے میں
سٹیمپ سے لے کر کمپیوٹرز تک کا سامان ان 18 روپے میں
فائیٹر جیٹ ان 18 روپے میں
گن شپ ہیلی کاپٹر ان 18 روپے میں
بحری جہاز تک ان 18 روپے میں
ان سب کا فیول ان 18 روپے میں
فوجی بیسز،رن وے، ہیڈ کوارٹرز تمام تر انفراسٹرکچر ان 18 روپے میں
انٹیلیجنس کے سیٹ اپ ان 18 روپے میں
ایجنسیز کا خرچہ ان 18 روپے میں
بیرون ملکی کورسز ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوجیوں کی تنخواہیں ان 18 روپے میں

اچھا سنیئے سنیئے۔۔۔ یہ کچھ بھی نہیں بخدا یہ کچھ بھی نہیں یہ وہ تھا جو بچہ بچہ جانتا، یہ وہ تھا جو ایک ایک سویلین جانتا ہے، خلائی مخلوق کے خرچے دفاع کے خرچے کیا ہیں، ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کیسے ہوتی ہم کیا جانیں
بات کرتے ہیں کام کی سروس کی،خلائی مخلوق کیا کرتی
خلائی مخلوق بارڈ پر کھڑی
خلائی مخلوق سمندر میں اتری
خلائی مخلوق فضا میں بلند
خلائی مخلوق سیاچن کی بلند وبالا چوٹیوں پر
خلائی مخلوق سبی کی کی تپتی ہوئی دھوپ میں
دہشتگردوں کے خلاف جانیں گنواتی یہ خلائی مخلوق
انڈیا،امریکہ،اسرائیل کے خلاف محاذ آرا یہ خلائی مخلوق
عالمی صیہونی طاقتوں کے نشانے پر یہ خلائی مخلوق
سر زمین پاک کے اٹیمی اثاثوں کی حفاظت کرتی یہ خلائی مخلوق
جن سیاستدانوں کے تم تلوے چاٹتے ان کی محافظ یہ خلائی مخلوق
آپریشن ضرب عضب میں جانیں دیتی یہ خلائی مخلوق
آپریشن راہ نجات میں قربان ہوتی یہ خلائی مخلوق
آپریشن خیبر ون،ٹو،تھری،فور کرتی یہ خلائی مخلوق
آپریشن رد الفساد میں لڑتی یہ خلائی مخلوق
زلزلے میں خلائی مخلوق
سیلاب میں خلائی مخلوق
بارشوں میں خلائی مخلوق
طوفان میں خلائی مخلوق
حادثات میں خلائی مخلوق
الیکشن میں خلائی مخلوق
مردم شماری میں خلائی مخلوق
ریسکیو میں خلائی مخلوق
پھر بھی تم بکواس کرتے ہو خلائی مخلوق پر
اس خلائی مخلوق پرجو اپنی خوشیاں قربان کرتا ہے
اس خلائی مخلوق پر جو ہر عید، شب برات میں سرحد پر کھڑا ہوتی
اس خلائی مخلوق پر جسکو اپنی شادی کے لیئے بھی تین چھٹیاں ملتیں
اس خلائی مخلوق پر جس کی منکوحہ بیوی سے پہلے بیوہ کہلانے لگی
اس خلائی مخلوق پر جو تمہارے بچوں کی حفاظت کے لیئے 6 6 مہینے اپنے بچے کا چہرہ نہیں دیکھتا
تم بکواس کرتے ہو اس خلائی مخلوق پر جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کے ایک ایک دن کی تنخواہ اس پاک سر زمین کے نام کی۔۔ کہ کل تمہارے بچے پیاسے نہ مریں- یہ کرتی خلائی مخلوق تمہارے ٹیکسوں سے

یہ ہے خلائی مخلوق جس پر تم بھونکتے کیونکہ تم 18 روپے دیتے ہو؟
نہیں نہیں ہر گز نہیں تم بھونکتے ہو، کیونکہ تمہیں اس بھونکنے پر ہڈی ڈالی جاتی ہے، اور سن لو انسان نما کتو  ہر غیرت مند پاکستانی کی للکار سن لو ہماری کھلی جنگ ہے تم تمام سے جو بکواس کرتے دین حق پر، وطن عزیز پر اور اس پاک سر زمین کے بہادر سپوتوں یعنی خلائی مخلوق پر اور ہاں یہ 18 روپے (18پرسنٹ) دے کر احسان نہیں کر رہے تم ایسے ہی جیسے باقی کے 82 روپے دے کر احسان نہیں کر رہے، ذرا مانگو نہ ان 82 روپوں کا حساب۔ وہ بھی تو تمہارے ٹیکسز ہیں۔

82 روپے جو تم سیاستدانوں کو دیتے ہو
جن کے بدلے وہ تمہارے بچوں کو گاڑیوں تلے روند جاتے۔ جن کے بدلے وہ تمہاری زمینوں پر قبضے کر لیتے، جن 82 روپے سے وہ کنالوں کے بنگلوں میں اپنی نسلوں کو عیش کرواتے ۔ جن کے بدلے وہ سالوں پوری دنیا میں عیاشیاں کرتے۔ جس 82 پرسنٹ سے اربوں کھربوں کی جائیدادیں بناتے اور تم سب جیئے جیئے کے نعرے لگاتے

تم حساب لو نہ ان 82 روپوں کا جو بیوروکریٹس کو دیتے۔ جو تمہاری زمینوں میں کروڑوں کا غبن کرتے، جو تحصیلدار سارا سارا دن آفس میں بٹھا کے ذلیل کرتے، جو کلرک دفتروں میں تم سے ہزاروں کی رشوت لیتے وہاں کیوں نہیں یاد آتا تمہیں ٹیکس۔ تم حساب لو نہ ان 82 روپوں کا جو ڈاکٹروں کو دیتے اس ڈاکٹر کو جس کے تم پاوں پڑتے ہو کہ آخری سانسوں پر اٹکے تمہارے بچے کو دیکھ لے اور وہ ٹھوکر مار کے کہتا میرے کلینک پر لے آو یا مرو

تم حساب لو نہ ان 82 روپے کا جو دیتے ہو پولیس والوں کو
ان میں وہ پولیس والے بھی ہوتے جو تم پر ناجائز مقدمات بناتے،جو تمہارے بوڈھے باپ کو گھر سے اٹھا کے لے جاتے،جو جھوٹے کیس بنا کے تشدد کرتے۔۔ جو لاکھوں کی رشوت لے کر بھی سالوں تک ذلیل کرتے۔۔ وہاں تو تمہاری صاب جی صاب جی بند نہیں ہوتی۔ ذرا کرو نہ بات ٹیکسز کی !!
(پورا محکمہ برا نہیں گندے انڈے ٹارگٹ ہیں)

چلیں چھوڈیں۔ بات جو نکلے گی تو دور تلک جائے گی
ختم کرتا ہوں مگر جاتے جاتے یہ بتا دوں کہ تم جن 18 روپے پر اچھلتے رہتے ہو وہ جنرل باجوہ کو نہیں دیتے، کہ لو باجوہ صاحب بانٹ دیں۔۔ وہ بھی تم انہیں سیاستدانوں کو دیتے ہو، وزارت دفاع کو دیتے ہو،انہیں سیاستدانوں کو جنہیں باقی کے 82 روپے دیتے ہو۔

لیکن اب بس۔ اب تمہاری بکواسات سننے والا کوئی نہیں کیونکہ یہ عوام پہچان چکی ہے اپنے محسنوں کو،اپنے محافظوں کو۔ افواج پاک کو۔ اور ان کے اندر موجود پاک سرزمین کی محبت کو۔

پاکستان زندہ باد
افواج پاک ہمیشہ پائندہ باد