لیفٹیننٹ فراز ملک شہید بہادری، جرات اور شجاعت کا دوسرا نام

یفٹیننٹ فراز ملک شہید 1984 کو ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوا۔ 

ایف ایس سی کرنے کے بعد ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت رہا، جس کے بعد انکا تقرر 18 فیلڈ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ ہوا۔ 

یہ وہی یونٹ تھی جس کے کمانڈنگ افسر خد شہید کے والد تھے۔ 

ایک سال بعد فراز ملک شہید کو جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا حکم ملا، لیفٹیننٹ فراز یہ حکم پا کر انتہائ خوش تھے کہ انہیں وطن کے لیے کچھ عملی کرنے کا موقع ملے گا۔ 

لیفٹیننٹ فراز چونکہ آرٹلری یونٹ سے تعلق رکھتے تھے لہزا میدان جنگ میں دوبدو لڑنا انکا کام نہ تھا لیکن اسکے باوجود شہید نے علاقے میں آپریشن کرنے والی یونٹ(20سندھ) کے ساتھ تین کامیاب مشن مکمل کیے۔ 

4نومبر2009 کو انہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے ساراروگا میں قائم خوارج کے خفیہ کمپاونڈز کی اطلاع ملی۔ 
اگرچہ علاقہ پہلے سے کلئیر ہو چکا تھا لیکن دشمن کے گوریلہ گروہ ابھی بھی کاروائیاں کر رہے تھے۔ 

جونہی لیفٹیننٹ فراز ملک نے کمپاونڈ کا دروازہ کھولا، دروازے کے ساتھ لگی بارودی سرنگ پھٹ گئ جس سے لیفٹیننٹ فراز ملک سمیت پانچ فوجی جوان شہید ہو گئے۔ 

شہید ایک ماہ پہلے ہی اپنے دوستوں کو بتا چکے تھے کہ میں جلد شہید ہو جاوں گا۔ 

شہادت سے پہلے انہوں نے اپنے والد کو خط لکھا جس میں کہا: 

"صرف ایک مقصد کے لیے میں نے آرمی جوائن کی اور وہ ہے اسلام اور پاکستان کی سربلندی،اس مقصد کے لیے لوگ اللہ کی طرف سے چنے جاتے ہیں۔میں آپکو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ اس فوج کا حصہ ہیں۔پاک فوج زندہ باد،پاکستان پائندہ باد" 

والدین کا لاڈلہ لیفٹیننٹ فراز ملک وطن کے روشن مستقبل کے لیے اپنا شاندار "آج" قربان کر گیا۔ 
لیکن جوان بیٹے کی جدائ آج بھی شہید کی ماں نہیں بھلا سکی۔ 
آج بھی لیفٹیننٹ فراز شہید کی والدہ اپنے بیٹے کی قبر کے ساتھ اسکی برتھ ڈے کا کیک کاٹتی ہے۔