گوریلہ جنگ اور پاکستان

گوریلا جنگ کے بارے میں ایک شاندار تحریر

گوریلہ جنگ سے مراد "ایسی جنگی تکنیک ہے جس میں کسی بڑی فوج پر دھاک لگا کر اچانک حملہ کیا جاتا ہے"۔


یہ تکنیک اکثر حملہ آور فوج کے حملے کا زور توڑنے اور انکے حوصلے پست کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

گوریلہ کاروائ کرنے والی فورس ہمیشہ بہترین تربیت کی حامل ہوتی ہے۔

کاروائ کے دوران اینٹی پرسنل مائنز،سنائپرز،ٹریپس وغیرہ کا عام استعمال کیا جاتا ہے۔ 

یاد رہے جنگل یا پہاڑی علاقہ گوریلہ کاروائیوں کے لیے بہترین علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

جب سے جنگ وجدل ایجاد ہوئ ہے تبھی سے یہ تکنیک ہر فوج کا حصہ رہی ہے،نا صرف ریاستی افواج یہ تکنیک استعمال کرتی ہیں بلکہ غیرریاستی عناصر بھی انہی گوریلہ کاروائیوں کو ترجیع دیتے ہیں۔

پاکستان آرمی کو دہشت گردی کی جنگ میں خوارج کی شدید گوریلہ طرز مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، ضرب عزب کے آخری مراحل میں یہ تمام تربیت یافتہ دہشت گرد وادی شوال میں جمع ہوئے جہاں انکا سامنا ایس ایس جی کے شیروں سے ہوا چند روز کی شدید لڑائ کے بعد خوارج کو عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

بلند حوصلہ اور جانفشانی گوریلہ کمانڈو بننے کے لیے لازمی جزو ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ایس ایس جی، ایس ایس ڈبلیو، اور ایس ایس جی نیوی کے اہلکاروں کو گوریلہ ورفئیر کی سخت ٹریننگ دی جاتی ہے۔