افغان طالبان با مقابلہ امریکی فوج

افغان طالبان کی سال 2018 میں کی جانے والی کاروائیوں کی مکمل رپورٹ


 

آپریشنز کی تعداد: 10638

افغان طالبان کی شہادتیں: 31

غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت: 249 ۔۔۔زخمی: 153

افغان سیکیورٹی فورسز کی ہلاکت: 22594 اور زخمی: 14063 جن میں 514 کمانڈرز شامل ہیں۔

3613 مختلف گاڑیاں تباہ کی گئیں جن میں ٹینک، ہموی گاڑی، آرمی ٹرک وغیرہ

8امریکی جاسوس ڈرون، 17 ہیلی کاپٹر اور ایک سی ون تھرٹی جہاز بھی تباہ ہوا۔

29 اضلاع کا مکمل انتظامی کنٹرول بھی افغان طالبان کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ 21 صوبوں کے 61 اضلاع بھی افغان طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

ان میں صوبہ ہلمند کے 7، غزنی کے 9، فریاب کے 5، سرائے پُل کے 4، فارہ کے 5، بادغیس کے3، پکتیا کے 6، قندھار کے 4، ارزغان کا1، بدخشان کے 2، بالاخ کے 2، زبول کے 4، ایک جوزجان، غور، خوست،دئی کنڈی، لُوگر، وردک، بغلان، نورستان شامل ہیں۔ ذیل میں دی گئی تصویر سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پاکستان کو پی ٹی ایم کےذریعے لربر کرنے والے اپنا کتنا ملک افغان طالبان کو دے چکے ہیں۔ تقریباً سے 80 فیصد سے ذیادہ افغانستان افغان حکومت کے ہاتھوں سے جاچکا ہے

جلد ہی پورے افغانستان پر افغان مجاہدین کی حکومت ہو گی اور سب کافر اور صیہونی طاقتیں شرمندہ ہو کر واپس لوٹ جایں گے پھر پورے افغانستان پر امن و سکون کا دور ہو گا ہر طرف خوشحالی ہو گی افغانستان میں امن ہی پاکستان میں امن کی ضمانت ہے افغانستان میں امن لانے کے لئے پاکستان کی بھی بہت سی خدمات ہیں پاکستان ہمیشہ افغانستان کے مشکل وقت میں ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے جس کی بدولت آج تاریخ میں پہلی بار امریکی صدر پاکستانی وزیر اعظم پاکستان سے اپنی فوجوں کی زندہ اور سلامت واپسی کی بھیک مانگ رہا ہے