سقوط ڈھاکہ اصل ذمہ دار کون؟ اصل حقائق پر مبنی ایک نایاب تحریر

یہ تصویر میں ہزاروں بار شئیر ہوتی دیکھ چکا ہوں جس میں جنرل نیازی کو بھارتی فوج کے سامنے سررنڈر کرتا دکھایا جارہا ہے۔ یہ دسمبر کا مہینہ اکثر یہ تصویر ہمیں ماضی کا ایک تلخ لمحہ یاد کرواتا ہے۔بڑی تعداد میں پیجز، گروپ اور خاص کرانڈین و افغانی لابی اور پاکستا ن میں موجود سیاسی منافقین جو پاک فوج کے سب اپنے خبیثانہ عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے دسمبر میں اپنے سیاسی کڑھن کو تسکین پہنچانے کے لیے بھی اس تصویر کو کافی بےشرمی سے شئیر کرتے نظرآتے ہیں۔


 

یہ تصاویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم نے 1971 میں انڈین کے سامنے سرنڈر کیا تھا۔ چونکہ جنگ فوج نے لڑی تھی اور سرنڈر بھی فوج نے ہی کیا تھا تو یہ طوق ہمیشہ کے لیے آرمی کے گلے میں باندھ دیا گیا اور ملک کو اپنی انا اور اقتدار کے لالچ میں دو لخت کرنے والے بےغیرت لوگ خود اس الزام سے بری الذمہ ہوگئے۔

بطورِ ایک قوم ہمارا حق تھا ہم ایسے لمحات اور ایسی گھٹیا حرکا ت کا سہارا لے کر اپنی افواج کی تذلیل نہ کرتے اور انہیں اپنی سپورٹ کا یقین دلاتے رہیں، دنیا میں کس ملک کو شکست نہیں ہوئی دنیا کی سپر پاورز نہیں دھولیں چاٹی ہیں روس نے پہلی عالمی جنگ میں ہتھیارا پھینکے، پھر افغانستان میں بےعزت ہوا، امریکہ نے ویتنام میں خود کو ذلیل کروایا اور افغانستان میں ذلیل ہورہا ہے۔

 

اب ہمارا حق ہے کہ جب پاک فوج کو چاروں طرف سے دشمن نے گھیرا ہے اور ہمیں سکون سے سلانے کے لیے دن رات یہ فوج دشمن سے نبردآزما ہے ہمیں ایسے وقت میں فوج کا بازو بننا چاہیے نہ کہ سیاسی فائدے کے لیے خباثت کا سہارا لینا چاہئے۔ 

ہم کبیو یہ یا تو سمجھ نہیں پاتے یا پھر سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ ملکی معاملات فوج کے ہاتھ جانے سےپہلے سیاسی طور پر حکومتوں کے پاس رہتے ہیں اگر فوج کسی معاملے میں ٹانگ اڑاتی بھی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہوتا کہ سیاسی لیڈر شپ ہار چکی ہے۔ سقوط ڈھاکہ کا سبب بھی یہی کچھ بنا تھا اس وقت پیدا کردہ حالات اور حکومتی کنٹرول فوج کے پاس نہیں تھا۔ فوج ایک ادارہ ہوتا ہے جو وفاق کے انڈر ہوتا ہے اور جنگ حکومتی مرضی اور ایماء کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی۔ فوج کو ہمیشہ سیکھایا جاتا ہے کہ اپنے لوگوں کے لیے لڑو نہ کے اپنے لوگوں سے اور ڈھاکہ میں بھی یہی ہوا تھا کہ فوج انڈیا فوج سے تو لڑتی رہی لیکن جب اپنے مدمقابل آگئے تو فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

جو بھٹو بدبخت آج بھی زندہ ہے اسی بھٹونے اس وقت بنگالیوں کو حکومت دینے سے اور انکی حکومت بننے سے انکار کردیا تھا حالانکہ اس وقت بنگالیوں نے اپنے لیڈر کو بھٹو سے دوگنا ذیادہ ووٹ دیئے تھے اور انہیں حکومت بنانے کے لیے واضح برتری حاصل تھی لیکن بھٹونے اس بات کو ماننے سے سراسر انکار کردیا اور "ہم ادھر تم ادھر" جیسے واہیات نعرے لگاکر ملک کو انتشارکی طرف دھکیل دیا۔ اسی بات کا فائدہ انڈیا نے اٹھایا اور شیخ مجیب الرحمان کو انکی حکومت بنانے اور پاکستان سے الگ ہونے کے علاوہ مکتی باہنی جیسی تنظیم بنا کرپاکستان کے خلاف کھڑا کرنے کی پیش کردی جو کے شیخ مجیب الرحمان کو اس وقت کے لحاظ سے خاصی معقول لگی اور اس نے بھی انڈیا کا ساتھ دینے کا ذہن بنالیا تھا جس کے بعد انڈیا کو حالات اسکی مرضی کے ملے اور پاکستان کو دولخت کرنے کا خواب سچ ہوتانظر آیا۔

 

فوج ان سارے معاملات سے دور تھی اور انکی نظریں اس مسلئے کو سیاسی طور پر حل کرنے پر جمی ہوئی تھی۔ انڈیا جانتا تھا کہ بھٹواقتدار کی ہوس کا مارا ہوا ہے اور ہم ادھر تم ادھر جیسے نعرے صورتحال کواچھی طرح واضح کررہے تھے۔اس دوران انڈیا نے شیخ مجیب الرحما ن کو اپنی حمایت اور پاکستان سے علیحدگی کا سارا اسکرپٹ پڑھا دیا تھا۔ مکتی باہنی کو خود انڈین آرمی اور ایجنسیوں نے اپنے کیمپوں میں رکھ کر ٹریننگ دی تھی۔ اس سارے سیاسی ڈرامے میں پاک فوج کا جنگ کی جانب حالات کو لے جانے کا کوئی بھی ارادہ نہیں تھا اور ایک سیاسی حل کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ بھارت نے بگڑتے حالات کو دیکھ کرہی جنگ کی تیاری شروع کردی تھی لیکن ہماری فوج کوسیاسی منافقین کی گرواٹ کا اتنا اندازہ نہیں تھا کہ یہ اقتدار کی خاطر ملک کو دو لخت کرنے پر بھی امادہ ہیں ۔

فوج کو بگڑتے حالات کے سبب اچانک جنگ کے لیے امادہ کیا گیا کہ اب بنگالیوں پر چڑھائی کرو سیاسیوں نےگل کھلادیے ہیں ۔ یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کے ہمارے پاس وہاں پہلے سے نہ تو کچھ ایسے انتظام تھا کہ فوج جنگ کے لیے تیار تھیں ،دوسرا فاصلہ اتناذیادہ تھا کہ اس جنگ کو منظم انداز میں لڑنے کے لیے کم از کم 5 سے 6 ماہ مسلسل تیاری کے لیے چاہیے تھے۔ فوج کی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی اسلحہ اور مطلوبہ سامان دستیاب نہ تھا۔ فوج کا مورال بھی جنگی صورتحال کے مطابق نہ تھا کیونکہ سب کی نظریں سیاسی حل پہ تھیں اور کوئی بھی اپنے لوگوں پر اسلحہ اٹھانے کو تیار نہیں تھا نہ ہی جنگ کی کوئی اتنی اچانک توقع تھی۔ دوسری طرف انڈیا کو اسرائیل اور روس کی جانب سے بھی مدد حاصل تھی۔ جنگ میں پاک فوج بڑی بےجگری اور دیدہ دلیری سے لڑی جس کا اعتراف اسوقت کا بھارتی آرمی چیف اور واحد فیلڈ مارشل مانک شاہ نے اس بات کا بڑے دل سے اعتراف کیا تھاکہ پاک فوج جنگ میں بڑی بےجگری اور انتہائی دلیری سے لڑی تھی لیکن جنگ انکی تھی ہی نہیں وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل دور تھے جہاں انکے پاس انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے انکو ٹائم تک نہیں ملا لیکن ہم اپنے مرکز کے قریب تھے اور ہم 9 ماہ سے اس جنگ کی تیاری کررہے تھے اس کے باوجود پاک فوج اپنی مثالی جرات اور بہادری سے لڑی۔

 

جس میں انہوں نے ایک پاکستانی کیپٹن احسان کابھی ذکر کیا کہ جس کے بارے میں انہوں نے پاک فوج کے جنرل کو خط لکھا تھا کہ اس کیپٹن نے ہمیں بڑارُلایا ہے ان کوبہادری کے اعزاز سے نہ نوازنا انہتائی زیادتی ہوگی اگر آپ لوگ انہیں بہادری کا میڈل نہیں دیں گے تو یہ کام انڈین آرمی کردے گی۔ اب کچھ چلتے ہیں سب سے پہلے جنرل نیازی کی کچھ تاریخ دیکھ لیتے ہیں کہ کون تھے جنرل اے کے نیازی یعنی امیر عبداللہ نیازی؟

جنرل اے کے نیازی کون تھے انکا فوجی کیرئیر اور 1971 کی جنگ میں انکا کردار.....

 

جنرل اے کے نیازی 1915 میں پیدا ہوئے، بچپن سے ہی ایک قابل اور ذہین طالبعلم مشہور تھے، تعلیمی میدان میں ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔تعلیم کے بعد انہوں نے برٹش آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی بہترین کارکردگی اور ذہانت کے سبب جلدہی انکا شمار بہترین آفیسرز میں ہونے لگا۔ 1942 کی جنگِ عظیم میں برما کی سرزمین پر وہ انتہائی بےجگری اوردلیری سےلڑےاور کئی مواقع پر دشمن کو اپنی ذہانت سے شکست دی۔

 

اس بہادری کے صلے میں برطانیہ نے انہیں "ٹائیگر" کا خطاب دیا اور انہیں پروموشن کے ساتھ ساتھ بہادری کے میڈلز سے بھی نوازا گیا۔ 1965کی جنگ میں بھی انہوں نے اپنے "ٹائیگر" ہونے کے لقب کی لاج رکھی اور کئی موقعوں پر دشمن کو رسوا کرکے واپس بھیجا ۔ اس جنگ میں بھی انہیں کئی میڈلز سے نوازا گیا۔

1971 میں جنرل ٹکاخان کے "آپریشن سرچ لایٹ"لانچ کرتے وقت بھی جنرل نیازی نے اس وقت بھی خود کو پیش کیا اور آگے بڑھ کر کمان سنھبالی جبکہ ان سے کہیں بڑے اور تجربہ کار جنرلز اس آپریشن کو لیڈ کرنے سے انکار کرچکے تھے۔ پاکستان کو جنگ کےنتائج شروع دن سے ہی نظر آرہے تھے۔

 

50000 کے قریب پاک فوج کے مقابلے میں لاکھوں کی تعداد میں مکتی باہنی کے تربیتِ یافتہ دہشتگردوں نے پورے مشرقی پاکستان میں ادھم مچادیا یہاں تک کہ انہوں نے انڈین ایماء پر ڈھاکہ میں باقاعدہ حملہ کردیا۔ ملکی املاک کو بےدریغ اور نہایت بےدردی سےنقصان پہنچایا، لوگوں کو سرعام قتل کیا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی جس کا الزام آج تک پاک فوج کے سر تھونپا جاتا ہے۔ ان سارے حالات کے باوجود جنرل نیازی نے اس مسلہ کے سیاسی حل کے لیے دونوں فریقوں کو منانے کی کوشش کی اور بار بار اس بات کا یقین دلاتےرہے کہ ہماری سیاسی قیادت ملکی حالات کو دوبارہ معمول پر لا سکتی ہے

 

لیکن دونوں جانب سے سیاسی قیادت جس میں سب سے بڑا قصور بھٹو کا تھا جسے صرف اقتدار کی لالچ تھی اور دوسری طرف مجیب الرحمان بھی اپنی راہ لے چکا تھا۔ حالات بدتر سے بدتر ہوتے گئے 3 دسمبر 1971 کو پاکستانی ائیر فورس نے بھارتی ائیربیسز پر حملہ کردیا۔ جنگ کی شروعات کا آرڈر بڑی جلدی میں آیا اور جنرل نیازی کو ریڈی ہونے کا آرڈر دیا گیا۔ جنرل نیازی نے ان حالات کے باوجود اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئی سب سے بہترین حکمتِ عملی اپناتے ہوئے تمام بڑے شہروں کو فوجی قلعوں میں تبدیل کرنے کا حکم دیدیا تاکہ انڈیا کو ہر طرف سے لڑکر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔

 

جنگ کے دوران جنرل نیازی آرام سے نہیں بیٹھے بلکہ اپنے ہیلی کاپٹر میں جنگی علاقوں یہاں تک کے بارڈر پہ فارورڈ بیسز پر بھی اپنے جوانوں کو حوصلہ بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً موجود رہے۔یہاں تک کہ جنگ میں زخمی ہونے والے جوانوں کو وہ اپنے ہیلی کاپٹر میں لینےجاتے اور انکی دیکھ بھال کرتے رہے۔

ناکافی اسلحہ اور ناسازگار حالات میں میں اپنے 50 ہزارسپاہیوں سمیت اس جنگ کو جنرل نیازی کی قیادت میں انتہائی بہادری سے لڑا گیا۔ مکتی باہنی کے دہشتگردوں کی تعداد لاکھوں میں تھی اور پاک فوج کے مقابلے میں ہندوستانی فوج کی تعداد 5 گنا ذیادہ تھی جس میں روس اور اسرائیل کی مدد بھی شامل تھی اور انڈین آرمی کا فاصلہ بھی کم تھااس لیے انہیں سازوسامان اور جنگی ضروریات پوری کرنے میں کوئی مشکل نہ تھی جبکہ جہاں ہماری آرمی سیاسی مسائل کے حل کے لیے پوری طرح پرامید تھی اس کے برعکس انڈیا میں ایسا نہیں تھا وہاں وہ پچھلے لمبے وقت سے اس جنگی منصوبہ بندی میں لگے ہوئے تھے۔

 

مکتی باہنی کے دہشتگرد گلیوں اور بازاروں میں ہتھیار لے کر دندناتے پھررہے تھے ایسے وقت میں ان کے خلاف کوئی بھی ایسا اقدام کرنا جس سے سارے ملک میں خانی جنگی شروع ہوسکتی تھی بیوقوفی تھی اسی سب کو دیکھتے ہوئے جنرل نیازی نے سوچ سمجھ کے فیصلے لیے جنگ دوسری طرف جاری تھی اور فوج انتہائی بہادری سے لڑی تھی۔

جیسور سیکٹر میں کئی کمانڈرز نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خود ہی ہتھیار ڈالے دیئے تھےجن میں کافی تعداد میں بنگالی بھی شامل تھے۔ لیکن جنرل نیازی نے ہمت نہ ہاری اور یہ جنگ دو ہفتوں تک بڑے جوش اور ولولےسے لڑے۔

 

16 دسمبر 1971 کو مغربی پاکستان یعنی ہمارے موجودہ پاکستانی کی جانب یعنی بھٹو غدار کی جانب سے جنرل نیازی کو ٹیلیگرام بھیجا گیا کہ کسی بھی طرح اس جنگ کو رکوایا جائے جو کہ ڈھکےچھپے الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہتھیار پھینک دو۔دوسری طرف انڈین کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ہم مکتی باہنی کے دہشتگردوں کو اسلحہ سے لیس کرکے تمام فوجیوں کے گھروں اور بیوی بچوں کو مارڈالیں گے اور یہ دہشتگرد پورے ملک میں ادھم مچا دیں گے۔ ہمیشہ فوج تب تک مضبوط رہتی ہے جب تک اس کی حکومت اور سیاسی قیادت جو عوام کی نمائیندہ ہوتی ہے اپنی حمایت اور مدد دیتی رہے مگر مغربی پاکستان میں بیٹھی حرام خود قیادت نے پاک فوج سے اپنے ہاتھ اٹھا لیے تھے اور جنرل نیازی اس وقت واحد شخص تھا جس نے حالات کو قابو کرنے کی بھرپورکوشش کی۔ جنرل نیازی نے اپنے ساتھیوں،انکے خاندانوں کی حفاظت اور خاص کر بنگالی عوام کو قتل وغارت گری اور پورے ملک کو خانہ جنگی کی لعنت سے بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی کیونکہ انڈیااور مکتی باہنی ایک بڑی تعداد میں ڈھاکہ میں حملہ آور ہوچکے تھےبار بار جنرل نیازی سے کہا گیا کہ ہتھیار ڈال دیں لیکن وہ صاف انکار کرتے رہے(یہ ویڈیو کلپ میرے پاس موجود ہے شئیر کردوں گا).

جنرل نیازی ہتھیار پھنکنے کے حق میں نہیں تھے انکا کہنا تھا کہ چاہے ہم میں سے ایک شخص بھی نہ بچے ہم سارے کے سارے قربان ہوجائیں،خالی ہاتھوں سے بھی لڑنا پڑے ہم لڑیں گےلیکن کسی صورت شکست تسلیم نہیں کریں گے۔

 

کوئی نہیں جانتا کہ آخر ایسا کیاہوا کہ انہیں اپنی بات اور اپنے ایک جرات مندانہ فیصلے سے پھرنا پڑا اور بالاخر انہوں نے سرنڈر کردیا.یہ بات انہیں سامنے لانے سے روکنے کے لیےگھناؤنی کوششیں کی گئیں

بدقسمتی سے ایک بہادر اور عظیم جنرل ایک بزدل جیسی گالی کا طوق گلے میں لیے آخری بار بطورِ جنرل 1975 میں سامنے آیا تھا جہاں انہیں انکے عہدے سے ہٹا کر، انکے تمغے واپس لے لیے گئے اور ہمیشہ کے لیے تنہائی اور گوشہ نشینی انکا مقدر کردی گئی۔ایک ایسا عظیم جنرل جس نے 30 سال اس ملک کی خدمت کی ان سے انکی پنشن اور میڈیکل مراعات، میڈلز تک بھٹو غدار کی حکومت نے چھین لیں

ایک کمیشن کے ذریعے سارا ملبہ ان پر اور فوج پر ڈال کر صاف نے اپنا اپنا دامن جھاڑ لیا.حالانکہ انہوں نے بار بار درخواست کی کہ انکا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ وہ عوام کو حقیقت سے آگاہ تو کرسکیں کہ اس جنگ کی اور سررنڈر کی اصل وجہ کیا تھی اس سررنڈر کا اصل ذمہ دار کون تھا؟لیکن انکی نہیں سُنی گئی. 

سب لکھتے ہوئے میرے آنسومیرے دامن کو بھگو رہے ہیں اور میرا ضبط جواب دے چکا ہےکاش میں اس بھٹو جیسی گالی کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا۔ انکی بار بار کورٹ مارشل کی درخواست رد کردی گئی جس کے بعد انہوں نے1998 میں ایک کتاب "بٹرائل آف ایسٹ پاکستان" لکھی اور 2 فروری 2004 لاہور میں انکی وفات ہوئی۔

جتنی خدمات انکی پاکستان میں کےلیے 30 سال سے تھیں یہ خدمات اگر انکی کسی اور ملک کے لیے ہوتیں تو شاید انہیں پوجا جاتا انکو ایک عظمت کی علامت سمجھا جاتالیکن ہماری کم ظرفی ہماری ذہنی غلامی ہمیں کبھی اپنے ہیروز کو سراہنے نہیں دیتی۔یہ جو جنرل اے کے نیازی کے سر بزدلی کا طوق ڈالا گیا اس کا حقدار اور جنرل نیازی کو پڑنے والی ہر گالی کا حقدار صرف اور صرف بھٹوجیسا گھٹیا انسان تھا

 

ہماری بدقسمتی کہ ایک عظیم ترین جنرل گمنامیوں میں کہیں مرکھپ گیا اور گالی اسکا مقدر ٹھہری مگر ایک ملک دشمن ملک کے دو ٹکڑے کرنے والا لعنتی آج بھی زندہ ہے۔ اصل نعرہ تو یہ ہونا چاہیے تھا بھٹو کل بھی غدار تھا بھٹو آج بھی غدار ہے۔یہ کوئی فوجی شکست نہیں تھی صرف اور صرف ایک اقتدار کے مارے بھٹو کے لالچ کی وجہ سےہوئی شکست تھی۔میں جنرل اےکے نیازی کو سلام پیش کرتا ہوں انکی عظمت انکی جرات انکی پاکستان کے لیے لازوال قربانیوں کو میری طرف سے سُرخ سلام۔ میری سات نسلیں بھی انکا احسانات کا بدل نہیں ہوسکتی جوجنرل اے کے نیازی نے پاکستانی عوام اور بنگالی عوام پہ کیے. جنرل باجوہ نے درست کہا تھا فوج پر انگلی اٹھانا آسان ہے مگر درد کوئی محسوس نہیں کرتا. ہمیں کل بھی فوج پہ فخر تھا آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا کتے لاکھوں بھی ہو چاند پہ بھونکتے رہیں چاند کی چمک دمک ویسی ہی رہتی ہے بس کتے خود کو ہلکان کرلیتےہیں.