ایک آئی ایس آئی کا گمنام سپاہی طالبان میں شامل ہوگیا

وہ تحریک طالبان کے ساتھ پچھلے سات سال سے منسلک تھا. وزیریستان ھو یا افغانستان انکے ساتھ ھر جگہ لڑا. یہاں تک 2008 میں وہ میرانشاہ اور رزمک کے ڈمہ ڈولہ کے علاقے میں بھی دیکھا گیا جب آئی ایس آئی کے کچھ مقامی ایجنٹس نے اسے حکیم اللہ محسود کیساتھ دیکھ لیا. پھر کیا تھا اسکی رپورٹ جنرل ھیڈ کوارٹر ھوگئ کہ صوبیدار عظمت اللہ (فرضی نام) تحریک طالبان کے کمانڈر کے ساتھ دیکھا گیا ھے................


صوبیدار صاب 2003 میں میرانشاہ کے کچھ مقامی طالبان حلقوں سے متعارف کروا دیا گیا. پنجابی تھا لہذا خود کو پنجابی طالبان کے لبادے میں چھپا کر تحریک طالبان میں شامل ھوا اور بالاخر کچھ عرصے کے بعد خود کو اس قابل کرلیا کہ اسے بڑے کمانڈروں کے بیچ جگہ مل گئی

جب کھبی ھم سنتے ھیں کہ مصدقہ زرائع سے یہ معلوم ھوا ھے یا حساس اداروں کے رپورٹ کے مطابق تو انکے پیچھے انھی ذرائع کا ھاتھ ھوتا ھے کئی بار انکو اپنے کاز کیوجہ سے اپنے ھی فوجیوں پر گولیاں چلانی پڑی مگر پہلے فراھم شدہ اطلاع کیوجہ انکا نقصان زیادہ سے زیادہ ھوا. ایک بار شوال رائفل کے یونٹ کمانڈنٹ آفیسر کو یہ اطلاع دی گئی کہ اپکے جوان چست نہیں ھے ٹارگٹ برقعوں میں چھپ کر جارھے ھیں بالاخر وہ ٹارگٹ پکڑے گئے

ایکبار اپریشن کے سلسلے میں کچھ جوان انکے ھاتھ لگے اور بالاخر انکو کیموفلاج کراکے نکلوا دیا گیا جس کے بعد فوج میں زلفیں رکھنے کی اجازت دی گئی ھر آفیسر اور جوان جب وہ اپریشن میں ھو ایک سویلین سوٹ, ایک پگڑی اپنے ساتھ ضرور رکھے گا تاکہ بوقت ضرورت اپنے اپکو دشمن کے بیچ ضم کرسکیں

صوبیدار عظمت اللہ انھی کے بیچ رہ کر اپنے ملک کیلئے کام کرتا رھا اپنے بچوں اور خاندان سے دور یہاں تک کہ ایک دن ایک ڈرون اٹیک میں انکو بھی نشانہ بنایا گیا ان بارہ افراد کیساتھ جو میرانشاہ کے ملحقہ علاقے دتہ خیل میں ھوا

اج وہ چکوال میں دفن ھے اور اسکے مزار پر پاکستان کا جھنڈا لہرا ھے اور قبر کے سرھانے لکھا ھوا ھے "ھم اپ سے وعدہ کرتے ھیں کہ اپکا مشن جاری رھیگا"