پاکستانی فوجی جوان اور امریکی ڈالر

سلالہ چیک پوسٹ واقعے کے بارے کون نہیں جانتا۔ لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ اس میں پاک فوج کا پہلی بار امریکی فورسز سے سامنا ہوا۔

اس حملے کے بارے میں


امریکی مصنف باب ووڈ ورڈز اپنی کتاب "The Obama" میں لکھتا ہے:

"فضائ حملے سے پہلے پاکستانی علاقے میں نیٹو فورسز داخل ہوئیں جس کے ردِعمل میں پاکستانی فوج کی طرف سے شدید فائرنگ کی گئ، اس غیرمتوقع حملے سے گبھرا کر نیٹو فورسز نے فورا" لڑاکا ہیلی کاپٹرز کی مدد حاصل کی اور پاکستانی چیک پوسٹس تباہ کردیں"

اصل میں خیبرایجنسی کے سلالہ نامی علاقے میں آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر پاک فوج نے رات دن محنت کرکے دو پوسٹیں بنائ تھیں جن کی مدد سے افغان صوبہ کنٹر کی طرف سے پاکستان داخل ہونے والے دہشتگردوں پر نظر رکھی جا سکتی تھی.

امریکا نے کئ بار ان چیک پوسٹوں پر اعتراض بھی کیا لیکن پاک فوج نے یہ پوسٹس برقرار رکھیں۔

جس کے جواب میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو نیٹو فورسز کی مدد سے بارڈر کراس کروایا جانے لگا۔

ان دنوں رات کے وقت اسی طرح کی ایک واردات میں نیٹو فورسز ٹی ٹی پی کے خوارج کو بارڈر کراس کروا رہی تھی کہ پاک فوج نے فائرنگ کر دی جس سے نیٹو فورسز کے کئ ارکان مارے گئے۔

جواب میں امریکی ہیلی کاپٹرز نے پاک فوج کی یہ چیک پوسٹس تباہ کردیں۔

(امریکا نے یہ بہانہ تراشا کہ ہم پر پاک فوج نے فائرنگ کی تھی جس کے جواب میں کاروائ کی)۔

نیٹو کا مقابلہ کرنے والے دو بہادر افسران میجر مجاہد علی میرانی شہید اور کیپٹن عثمان شہید اپنے24 ساتھیوں کے ہمراہ امریکی حملے میں شہید ہوئے۔

میجر مجاہد علی میرانی شہید نوڈیرو کے رہنے والے اپنے والدین کے چشم و چراغ تھے اور انکی چند دن بعد شادی کی جانی تھی، جبکہ کیپٹن عثمان شہید کا تعلق ساہیوال سے تھا اور ان کی ایک چند ماہ کی بیٹی بھی تھی۔

یہ دونوں بہادر افسران وہی تھے جن کی بدولت پاک فوج نے مہمندایجنسی سے دہشتگردوں کا صفایا کیا۔

کامیاب آپریشن کے بعد میجر مجاہد علی اور کیپٹن عثمان اسی علاقے میں قائم سلالہ پوسٹ میں تعینات ہوئے،اور انہوں نے سلالہ چیک پوسٹ سے افغانستان کی طرف سے ہونے والے کئ حملے ناکام بنائے۔

خدا افواج پاکستان کے شہداء کے درجات بلند فرمائے، جنہوں نے ہمارے روشن کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیا