آئی ایس آئی کے دو ایجنٹ سی آئی اے میں شامل ہو گیے اور کیسے سی آئی اے کے ہی ہاتھوں حکیم اللہ محسود کو جہنم بھیجا

پاکستان میں ٹی ٹی پی کے ذریعے پراکسی وار شروع کروانے کے بعد سی آئی اے کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ


آئی ایس آئی تھی کیونکہ سی آئی اے روس جنگ کے وقت سے آئی ایس آئی کی حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی قائل ہوچکی تھی اور اس بات سے اچھی طرح واقف بھی تھی کہ آئی ایس آئی انکے کسی بھی قسم کی پراکسی کامیاب نہیں ہونے دے گی اور آج تک یہ بات ایک اٹل حققیت ہے کہ آئی ایس آئی کیسے کام کرتی ہے یہ بات صرف آئی ایس آئی والوں کا رب ہی جانتا ہے. خیر آگے بڑھتے ہیں امریکی سالانہ 23 ارب ڈالر صرف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کے لیے لگاتا رہا ہے اس پراکسی کا مقصد پاکستان کو خانی جنگی میں شکستہ حال کرکے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرنا تھا اور ٹی ٹی پی کو لانچ کرنے کا مقصد بھی یہی تھا

شاید آپ یہ بات پہلی مرتبہ پڑھ رہے ہوں کہ سی آئی اے نے آئی ایس آئی میں ایسے لوگوں کی تلاش شروع کردی جو ڈبل ایجنٹ کے طور پہ کام کریں یعنی آئی ایس آئی کی معلومات ان تک بھی پہنچائیں. اس حوالے سے سی آئی اے نے پیسہ پانی کی طرح بہایا کہ کسی طرح اس آئی ایس ائی میں اپنے جاسوس پیدا کرنے کی راہ مل جائے. سی آئی اے نے کئی ماہ اسی تگ و دو میں گُزار دیے لیکن کامیابی حاصل نہ ہوئی. ایک عرصہ کے بعد دو افراد نے آہستہ آہستہ سی آئی اے کے حکام سے روابط استوار کرنا شروع کیے اور بدلے میں کچھ ڈیمانڈز رکھیں. اندھے کو کیا چاہیے تھا دو آنکھیں امریکہ نے جھٹ سے انکی ڈیمانڈز مان لیں. جب یہ دو افراد سی آئی اے کے حکام سے ملے تو انہوں نے اپنی ذہانت اور ہوشیاری سے سی آئی اے حکام کو اس بات کا یقین دلا دیا کے یہ واقعی انکے کام کے ہیں وقتی طور پر انہیں ایسی معلومات بھی دی گئیں جو سی آئی اے والوں کے یقین کرنے کے لیے کافی تھیں

 

سی آئی اے حکام جو ایسے افراد کی تلاش میں در کی خاک چھان چکے تھے انکی تلاش بھی بالاخر ختم ہوئی. کچھ عرصہ سی آئی اے نے انکی نگرانی رکھی انہیں چیک کیا جاتا رہا لیکن آہستہ آہستہ ان دونوں افراد پہ سی آئی اے کا بھروسہ بڑھتا گیا. یہ دونوں افراد افغانستان اور پاکستان میں کام کے حوالے یہ یکتا تھے اور امریکی سی آئی اے کی آنکھوں تارہ بنے رہے. انکی اہم ترین ذمہ داری افغانستان میں سی ائی اے کی قیادت سے پیغام لے کر وزیرستان میں حکیم اللہ محسود جو اس وقت خارجیوں کا سربراہ تھا کے پاس پہنچانا تھا. ان دو افراد کو سی آئی اے کا خاص آدمی کہا جاتا تھا. یہاں سے وہ دونوں افراد حکیم اللہ محسود کے کام اور ان سے ساری معلومات اکٹھی کرکے سی آئی اے تک پہنچاتے تھے

 

رفتہ رفتہ یہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ بھی گھل مل گئے اور انکے سارے ٹھکانوں سے واقف ہوچکے. اہم ترین معلومات اور ہدایات انہی کے ذریعے ہی بھیجے جانے لگے. یوں ہی کوئی کافی وقت گزر گیا پاکستان میں حکیم اللہ محسود کے خارجی انتہائی تیزی سے کاروائیاں کرنے لگے. کچھ وقت برداشت کرنے اور امریکی سی آئی اے کے اہم ترین راز جاننے کے بعد یہ دونوں افراد سی آئی اے کو مخبری کرتے ہیں کہ فلاں جگہ افغانستان سے طالبان کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود اپنے مجاہدین ساتھیوں سے ملنے کے لیے آرہے ہیں. ان میں امریکہ کو مطلوب انتہائی اہم افراد بھی شامل ہیں. سی آئی اے کے لیے یہ ایک اہم کامیابی ہوتی کیونکہ سی آئی اے کو ثبوت چاہیے تھا کہ پاکستان ہمارے خلاف کاروائیوں کررہا ہے اس بات کو بنیاد بنا کر امریکی سی ائی اے ڈرونز حملوں کا جواز پیش کرنا چاہتا تھا. نومبر کی ابتداء میں حکیم اللہ محسود نے اپنے حواریوں کو جمع کیا اور اسی میٹنگ میں پاکستان میں کاروائیوں کو مزید تیز کرنے اور نئی حکمتِ عملی اپنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جانے تھے

 

یہاں سے ان دونوں افراد نے میٹنگ شروع ہونے کے چند لمحوں بعد سی ائی اے کو ٹارگٹ بھیجا اور ڈرون حملے کے لیے سگنل دیا. امریکہ اپنے لالچ میں کچھ سوچتا سمجھتا اس سے پہلے اتنی بڑی کامیابی کا لالچ لیے ڈرون کو دیے گئے ہدف تک لا کے میزائل داغ دیا. چند ہی سیکنڈوں میں ہدف مٹی دھول میں تبدیل ہوگیا. امریکی سی آئی اے نے اس کامیابی کا خوشی سے نعرے لگا کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی. لیکن کیا آپ جانتے ہیں کچھ ہی دیر بعد جب پاکستانی چینلز نے یہ خبر بریک کی کہ حکیم اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تو یہ خبر سی آئی اے پر بم بن کر گری اور انکی بنیادیں ہل گئیں کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوگیا.سی آئی اے کے افسران پاگل ہوگئے تھے کہ انہوں نے بہت بڑا مہرہ گنوادیا تھا. جب ان دونوں افراد سے رابطہ کیا گیا تو وہ دونوں افراد رابطہ کے تمام دستیاب ذرائع ضائع کرکے غائب ہوگئے. صرف ان دو افراد کی تلاش میں سی أئی اے اپنے کئی اہم اہلکار گنوا چکی ہے لیکن ان دو افراد کا سراغ امریکہ کو اج تک نہ مل پایا. یہ تھے ہمارے گمنام مجاہد جہنوں نے سی آئی اے کو انہی کی زبان میں جواب دیا اور انکا مہرہ انہی کے ہاتھوں مروادیا. اللہ اکبر

 

پاکستان آرمی زندہ باد

پاکستان آئی ایس آئی زندہ باد