دنیا کی بہترین فوج پاک فوج

میں ابھی 17 سال کا تھا جب میں نے پاکستان Army جوائن کرلی تھی تب میرے ساتھی گلیوں میں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے اور میں جی تھری ریفل کو توڑ کر دوبارہ اسمبل کرنا سیکھ رہا تھا. صبح ساڑھے چار بجے اٹھ کر ساحل سمندر کی ٹھنڈی ریت پر لمبی کراس کنٹری اور اس کے بعد فزیکل ٹریننگ.. جس میں اکثر اوقات ٹرینر کے ہاتھ میں نائیلون کی موٹی رسی ہوتی تھی اور رکنے والے کو، ناں کرنے والے کو جب پڑتی تھی تو ہفتوں نشان نہیں جاتے تھے نیلاہٹ کے .. ناشتے کے بعد پریڈ کے لیے سارا دن گراؤنڈ میں گزرتا جہاں پر ڈرل انسٹرکٹر کے ہاتھ میں بلیک سٹک ہوتی تھی.... تیراکی کے دوران سمندر میں غوطہ خور ساتھ اترتے تھے اور معمولی غلطی پر غوطے دے دے کر برا حال کر دیتے تھے... سرد ننگے جسم پر تیراکی کے لیے استعمال ہونے والے فنز سے مار پڑتی تھی پورا جسم نیلا ہوجاتا تھا... لانگ بوٹ پہن پہن کر پاؤں میں پہلے چھالے بنتے اور پھر سوراخ ہو جاتے. لانگ بوٹ اتارنے کی پھر بھی اجازت نہیں تھی ہاں البتہ جہاں سے بوٹ کاٹ رہے ہوتے بوٹ کے اس حصے کو بلیڈ سے کاٹنے اجازت ضرور تھی....


ایم جی رائفل اٹھا کر کندھے پر فائرنگ پوائنٹ تک آتے جاتے تھے...مینگروز کے جنگل میں کیچڑ سے لتھڑے کمبٹ اٹیک کی پریکٹس کرتے... مینگروز کا وہ جنگل جس میں سانپ بچھو سے لیکر ہر طرح کے حشرات ارض تھے.. ناشتے. دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کی فکس ٹائمنگ تھی...اگر وقت پر پہنچ گئے تو ٹھیک نہیں تو اگلے وقت تک انتظار... سال کی اس ہارڈ شپ کے بعد کوالیفائی ہوئے تو سوچا سکھ کا سانس ملے گا... مگر شپ پر ٹرانسفر چلے گئے... انڈیا سے حالات خراب تھے کتنی بار گھر والوں کو آخری خط لکھا اور لکھا کہ اب جا رہا ہوں تو شاید واپس ناں پلٹوں...

زندگی یونہی گزرتی رہی، عیدیں جی تھری کو گلے لگا کر اور شب راتیں ایم پی فائئو کے ساتھ گزریں، بھائی کی شادی میں یار لوگ بھنگڑا ڈال رہے تھے مگر چھوٹا لاڈلا بھائی سمندر کی لہروں سے نبرد آزما تھا، چچا کی لاش صحن میں رکھی تھی اور بھتیجا گوادر پورٹ کی حفاظت پر بلوچ علیحدگی پسندوں سے نمٹ رہا تھا، ماں کی میت قبرستان میں قبر میں اترنے کی منتظر تھی اور بیٹا دور سے دوڑتا ہوا آ رہا تھا، ماں جیسی بھابھی کی لاش انتظار کرتی رہی مگر لاڈلا دیور سمندری قزاقوں کے ساتھ ڈی جبوتی کے سمندر میں آمنے سامنے تھا...

شادی ہوئی تو بیگم کو کراچی شہر میں تنہا چھوڑ کر دو دو مہینے کے لیے سمندر میں ملکی سلامتی کی خاطر شب و روز گزارتے... بچے پیدا ہوئے تو ان کے کھیلنے کودنے کے دن نہیں دیکھ پایا... ان کی خواہشیں محدود وسائل کی وجہ خواہشیں ہی رہیں وہ بیچارے چھوٹی عمر سے ہی اپنی خواہشات کو ہر مہینے کی یکم سے نتھی کرتے ہیں کہ یکم آئے گی تو کھلونے ملیں گے..

اتنی سب قربانیاں کس لیے

اس وطن کے لیے

اور اسی لیے اب میں جہاں کھڑا ہوتا ہوں وہاں صرف میں ہوتا ہوں اور مجھے وہاں میرے ملک کی بہتری کے علاوہ کچھ نہیں دکھتا پھر میں صرف ملک کا سوچتا ہوں اس کے لیے خواہ مجھے کسی کا منہ ہی کیوں ناں توڑنا پڑے

اور اگر پھر بھی سونے کا چمچ لے کے پیدا ہونے والا سیاستدان مجھے کہے کہ مجھے سلیوٹ کرو اور میرے سامنے جھک کر رہو... جس نے دونمبر طریقے سے ممبری لی ہو پیسے بد معاشی اور بے غیرتی سے اقتدار لیا ہو..

تو میں اس کا منہ توڑ دوں گا...کیونکہ میں پاکستان ہوں اور میں نے اس پا کستان کے لیے اپنا بچپن، جوانی، خواہشات، سب تیاجا ہے

ہم زیادہ بولتے نہیں صرف کر دکھاتے ہیں اور ہمارا کیا ہوا دنیا کے نقشے پر نشان چھوڑتا ہے

میری ہمدردیاں کسی سیاسی جماعت، عقیدے، سے نہیں میرا عقیدہ بھی پاکستان ہے اور میری جماعت بھی پاکستان