تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے


ذکر اُن دو موضوعات کا، جو نظر انداز ہوئے یا کر دیئے گئے، ان پر اتنی بھی بات نہ ہوئی جتنی 55روپے فی کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر پر یا جتنی مرغیوں، انڈوں، کٹوں پر ہو چکی، ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ انڈے، مرغیوں، کٹے منصوبوں کے بانی شہباز شریف، 5مرغیاں ایک مرغا منصوبہ لانچ کر چکے، کٹے، مال مویشی یعنی لائیو اسٹاک ٹریننگ و پائلٹ منصوبے وہ چلا چکے، وہی گھسی پٹی مثال یاد آ رہی کہ ’’بد سے بدنام برا‘‘ مطلب خادم اعلیٰ کر چکے، کسی کو خبر، پروا نہیں، عمران خان نے بات کر دی، جگت باز لنگوٹیاں کس کر میدان میں آگئے اور مزے کی بات مسلم لیگ (ن) والے بھی جگتیں مار رہے، خیر چھوڑیں، اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں، پہلا موضوع انتخابات 2018پر فافن کی تفصیلی رپورٹ جو پچھلے ہفتے جاری ہوئی۔
50سے زائد غیر سرکاری تنظیموں کے نیٹ ورک فافن نے 2018کے انتخابات میں 57ہزار 832پولنگ اسٹیشنوں پر 16ہزار 429تربیت یافتہ مشاہدہ کاروں کو تعینات کیا، پہلی بار نہ صرف جدید موبائل ایپلی کیشنز متعارف کرائی گئیں، سنٹرل کال سنٹر قائم کیا، الیکشن ٹربیونلز کارروائی کا جائزہ لینے کیلئے وکلاء کی خدمات لی گئیں بلکہ 9ہزار پولنگ اسٹیشنوں کے نمونے لیکر الیکشن کمیشن نتائج، فارم 33، فارم47,46,45اور فارم 48سے موازنہ بھی کیا، فافن جس نے 2013کا الیکشن بھی کور کیا تھا، اس کے مطابق 2018کے انتخابات 2013کے انتخابات سے بہتر رہے، 2013میں بے ضابطگیاں 90فیصد جبکہ 2018میں بے ضابطگیاں 38فیصد، فافن کہے 2018کے انتخابات میں 62فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی بے ضابطگی نہیں ہوئی، 2013میں 2.1فیصد پولنگ اسٹیشنوں کو یرغمال بنایا گیا جبکہ 2018کے انتخابات میں ایک پولنگ اسٹیشن بھی یرغمال نہیں بنایا گیا، 2013میں 5.7فیصد پولنگ اسٹیشنوں کا نتیجہ پولنگ ایجنٹوں کو نہیں دیا گیا جبکہ 2018میں 5.2فیصد پولنگ اسٹیشنوں کا نتیجہ پولنگ ایجنٹوں کو نہ مل سکا، 2013میں 5فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر غیر متعلقہ افراد نے دباؤ ڈالا جبکہ 2018میں 1.1فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر تشدد کے واقعات ہوئے، فافن کے مطابق جن 180قومی اسمبلی کے حلقوں میں سب سے کم یا نہ ہونے کے برابر بے ضابطگیاں ہوئیں ان میں 66 حلقے پی ٹی آئی کے نام رہے، 50حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی، 34حلقوں میں پی پی جیتی جبکہ ایم کیو یم 6، مسلم لیگ ق 4، متحدہ مجلس عمل 4، بلوچستان نیشنل پارٹی 2، بلوچستان عوامی پارٹی 2، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی نے ایک ایک جگہ پر کامیابی حاصل کی۔ فافن کا کہنا کہ 2018کے انتخابات گزشتہ تینوں انتخابات کے مقابلے میں قواعد پر عملدرآمد، ووٹنگ عمل، گنتی اور انتخابی بے ضابطگیوں میں کمی کے حوالے سے بہتر انتخابات ثابت ہوئے، فافن ہی بتائے کہ 2018کے انتخابات میں جزوی شعبوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی لیکن یہ بے ضابطگیاں ایسی نہیں کہ انتخابی نتائج پر حاوی ہو سکیں۔
یہ فافن کی رپورٹ، کچھ اسی سے ملتی جلتی یورپی یونین مبصرین کی رپورٹ بھی، اب دونوں رپورٹوں کو ذہن میں رکھ کر انتخابات والی شام سے اب تک ہوتی ’ہال دہائی‘ دیکھیں، کچھ مہربانوں کو تو واقعی پرائڈ آف پرفارمنس ملنا چاہیے، اس خوبصورتی سے رائی کا پہاڑ بنایا، اس چالاکی سے بات کا بتنگڑ بنایا، اس مکاری سے مفروضوں کو حقیقت کا رنگ دیا، اس عیاری سے منفی پروپیگنڈہ کیا اور اس مستقل مزاجی سے جھوٹ بولا کہ لگا جیسے انتخابات جعلی، مینڈیٹ نقلی، لیکن یہ کیسے نہ ہوتا، یہ ہونا ہی تھا، تین دہائیوں سے جو مافیا چہرے بدل بدل کر اقتدار کے مزے لوٹ رہا تھا، جس مافیا سے جڑے بیسوؤں چھوٹے چھوٹے مافیاز جونکوں کی طرح ہمارا خون پی رہے تھے، ان سب کیلئے تو یہ انتخابات موت ثابت ہوئے، یہ روتے دھوتے نہ تو اور کیا کرتے، یہ آج بھی جو شور و غوغا، شکوک و شبہات کی دھول، یہ پلٹنا، لپٹنا، لپٹ کر پلٹنا، یہ سب باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہو رہا، یہ گاڈ فادروں سے چنے منے ڈانوں اور منشا بموں تک سب بقا کی جنگ لڑ رہے، حکومتی نالائقیاں، بونگیاں، نکما پن اپنی جگہ، مگر یہ اک حقیقت کہ آج پاکستان اُس فیصلہ کن موڑ پر، جہاں اگر ڈاکو، لٹیرے بچ نکلے تو پھر اگلے 50سال تو انہی کا راج، اگر آج کرپٹس، کرپشن کا رستہ نہ رکا تو پھر ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ ہی سمجھیں، اگر آج جونکیں نہ ماریں تو پھر نسل درنسل یہ خون چوسیں گی اور اگر آج کچھ نہ ہو سکا تو پھر 22کروڑ کیلئے آگے اندھیرا ہی اندھیرا۔
دوسرا موضوع چوہدری نثار کا وہ انٹرویو جس میں انہوں نے فرمایا ’’میں مفاہمت کروانے کیلئے تیار تھا، معاملات طے پا گئے، نواز شریف رضامند تھے، آخری وقت میں ایک انقلابی آڑے آ گیا‘‘ بلاشبہ چوہدری نثار عمر بھر سچ کے قریب قریب رہے، جو کہا، کھلم کھلا کہا، یہ چوہدری صاحب ہی کہہ سکیں کہ ’’میری عزت نفس، یہ گوارا نہیں کہ بچوں کے جوتے اُٹھاتا پھروں‘‘ مطلب مریم، حمزہ کے ماتحت کام نہیں کر سکتا، غلام معاشرے میں جہاں رکوع کے عالم میں جھک کر ہاتھ چومنے اور اپنے قائد کی پرستش کا رواج ہو وہاں یہ بہت بڑی بات، بڑی ہمت کی بات، یہ بھی سچ کہ اپنوں، پرائیوں کے ڈسے چوہدری صاحب ان دنوں اس پوزیشن میں نہیں کہ کوئی کڑوی کسیلی بات کی جا سکے اور پھر اپنے دوست، بھائی، محسن میجر عامر کی ڈانٹ ڈپٹ کا بھی خوف، لہٰذا چوہدری صاحب سے صرف 3سوال، پہلا یہ کہ آپ سے پہلے بھی یہ سنا کہ ’’میرا مشورہ مان لیا جاتا تو آج شہباز شریف وزیراعظم ہوتے، میری بات مان لی جاتی تو آج مسلم لیگ کا یہ حال نہ ہوتا، میری باتوں پر عملدرآمد ہو جاتا تو نواز شریف جیل نہ جاتے‘‘ اب آپ فرما رہے کہ ’’آپ ایک اور مفاہمت، ڈیل کروانے والے تھے‘‘ چوہدری صاحب اتنا کچھ ہونے اور سامنے آ جانے کے بعد بھی آپ مفاہمت یا ڈیل کروانا چاہتے تھے، کیوں، دوسرا سوال یہ کہ بلاشبہ تین دہائیوں کی سیاست میں آپ پر ایک پیسے کی کرپشن کا الزام بھی نہ لگا مگر آپ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کیوں عمر بھر کرپٹس کے ساتھ کھڑے رہے، انہیں بچاتے رہے، آپ کو کبھی ملک پر حم نہیں آیا، کروڑوں بھکے ننگوں پر ترس نہیں آیا، آخری سوال، چوہدری صاحب آپ ہر مشکل وقت میں جن کے ساتھ کھڑے رہے، جن کیلئے لڑتے رہے اور جن کیلئے عمر بھر لڈو کی سانپ سیڑھی والا کھیل کھیلتے رہے، انہوں نے تو اپنی اولاد کی غلامی قبول نہ کرنے پر آپ کو اپنی زندگیوں سے نکالنے میں ایک منٹ نہ لگایا، آپ کو پھر بھی انہیں کسی چور دروازے، پتلی گلی سے نہ نکال سکنے کا غم کیوں۔۔۔
لیکن پھر سوچوں چوہدری صاحب سے ہی کیا گلہ، ہم سب ہی ایسے، آج کس کو علم نہیں کہ مزاحمتی، بغاوتی کیوں چپ، ووٹ کی عزتیں کیوں خواب ہوئیں، روک سکو تو روک لو والے کیوں رُک چکے، مگر اپنے فائدے کیلئے کل انقلابی بننے والے اور اپنے مفاد میں آج چپ کا روزہ رکھے ہوئے جب کل اپنا فائدہ دیکھ کر پھر سے نعرہ انقلاب لگائیں گے تو ہم پھر سے انہیں کندھوں پہ اُٹھائیں گے اور پھر سے میاں دے نعرے ہی وجن گے، آخر پر کہنا یہ کہ کیا وقت آگیا کہ عمران خان کے 100دنوں کو نہیں بلکہ ہاؤس آف شریفس کو دیکھ کر یہ نعرہ مارنے کو دل چاہے کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے‘‘۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)