ترکی: ملک میں نافذ ایمرجنسی میں مزید توسیع کا امکان

رجب طیب اردگان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد نیشنل سیکیورٹی کونسل (ایم جی کے) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ملک میں ایمرجنسی کو مزید 3 ماہ کے لیے بڑھانے کے حوالے سے تجویز پش کرنے پر رضا مند ہیں۔


ترکی میں اس وقت نافذ العمل ایمرجنسی کے ختم ہونے کی آخری تاریخ 19 اپریل ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ میں توسیع کی منظور کے لیے اگلہ مرحلہ پارلیمنٹ سے منظوری کا ہے لیکن یہ ایک رسمی عمل ہوگا۔

ترک حکومت کی جانب سے ملک میں ناکام فوجی بغاوت کا الزام امریکا میں مقیم رہنما فتح اللہ گولن پر لگایا جاتا ہے، تاہم وہ اپنے اوپر لگائے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتے رہے ہیں۔

اردگان حکومت نے بغاوت کو ناکام بنانے کے بعد تقریبا ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین کو گرفتار اور برطرف کردیا تھا جن میں اساتذہ، پولیس افسران اور جج صاحبان شامل ہیں۔

ترکی میں اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے انقرہ اور استنبول سمیت ملک بھر میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

ادھر طیب اردگان کی اتحادی جماعت نے امید ظاہر کی ہے کہ ملک میں عام اتخابات ایک سال قبل اگست میں ہوسکتے ہیں۔

نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) کے سربراہ دیولیت باہچیلی کا کہنا تھا کہ ترکی، 3 نومبر 2019 کو صدر اور پارلیمنٹ کے لیے ہونے والے انتخابات کے شیڈول کا انتظار نہیں کرسکتا، اور زور دیا کہ یہ انتخابات رواں برس 26 اگست کو کرائے جائیں گے۔

ترک حکومت نے بھی اس تجویز پر گرم جوشی سے کہا ہے کہ وہ دیولیت باہچیلی کے مطالبے پر غور کرے گی۔

ایم ایچ پی کے سربراہ نے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ترک عوام کو 26 اگست 2018 کو نئے جذبے کے تحت ووٹ کا حق استعمال کریں اور تاریخ رقم کریں۔

ادھر ترکی کے نائب وزیراعظم کا کہان تھا کہ حکومت ایم ایچ پی کے سربراہ کے مطالبے پر غور کرے گی جس نے ملک میں نئی صورتحال پیدا کردی ہے۔

ترکی کے وزیرمعاشیات نے کہا کہ ملک میں قبل ازوقت انتخابات کروانا مثبت ثابت ہوگا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎