شہباز شریف کے تحریک انصاف سے 26 سوالات

لاہور: ( روزنامہ دنیا) کہاں ہیں وہ 350 ڈیمز، 250کالجز ، ایک ہزار سٹیڈیمز اورپورے پاکستان کی بجلی ؟ صدر مسلم لیگ (ن)شہباز شریف نے تحریک انصاف کی پانچ سالہ کارکردگی پر 26 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کر دیا۔


سوالنامے میں خیبرپختونخوا کی ترقی کیلئے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد سے متعلق پوچھا گیا ہے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ کیا تحریک انصاف بتائے گی کہ کہاں ہیں وہ 350 ڈیم ؟ جن کی خان صاحب باتیں کرتے تھے ؟ کہاں ہیں وہ مساجد کے اماموں کی تنخواہیں؟کہاں ہیں وہ مساجد میں سولرسسٹمز؟کیا وہ 250 کالج بن گئے ؟ کہاں ہیں وہ ایک ہزار سٹیڈیم ؟ پورے پاکستان کو بجلی فراہم کرنے والے منصوبوں کا کیا ہوا؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ کے پی کے میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بننے والی یونیورسٹی اور گورنرہاؤس میں بننے والی پبلک لائبریری کوکون سے راستے جاتے ہیں؟ کیا کے پی میں 90 دن میں کرپشن ختم ہو گئی ۔کیا آپ بتائیں گے کہ آپ نے تو پشاور کو پیرس بنانے کا اعلان کیا تھا اور آج آپ کے پانچ سالہ دور میں پشاور دنیا کا دوسراگندا ترین شہر بن گیا۔ آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کے ٹرین منصوبے کا کیا ہوا ؟ کہاں ہیں وہ آپ کے خیبر پختونخوا کو 100 سال تک فائد ہ دینے والے پروجیکٹس ؟۔

کیا آپ بتائیں گے کہ غیر ممالک سے نوکریوں کے لیے آنے والے غیر ملکی کس پردے میں چھپے ہوئے ہیں ؟ ذرا قوم کو بتائیں کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کا حال کیا ہے ؟ کیا آپ بتائیں گے کہ خیبر پختونخوا میں اقربا پروری ختم ہو گئی ؟ کیا خیبر پختونخوا میں میرٹ کی دھجیاں اُڑنا بند ہو گئیں یا بڑھ گئیں ؟ کیا افغانستان سے پاکستان میں آنے والی ہیروئن اور چرس سمیت تمام نشہ آور اشیا کی سمگلنگ خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس نے روک لی ؟ کیا تحریک انصاف کے اعلان کے مطابق تحریکِ انصاف میں کرپٹ اور الیکٹ ایبلز کے بجائے پرانے اور مخلص کارکنوں کو ایم این اے اور ایم پی اے کی ٹکٹوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کے عہدے دے دیئے گئے ہیں ؟ کیاعمران نے سرکاری وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ سرکاری املاک کا اپنی ذاتی استعمال سے پرہیز کیا ؟ نیازی صاحب اپنے کتے کو بھی ’ٹائیگر‘ کہتے ہیں اور کارکنوں کو بھی ’ٹائیگرز‘ کہتے ہیں۔ کیا عمران نے جھوٹ کے بجائے قوم سے سچ بولا اور یُوٹرن لینا بند کر دئیے ؟ اگر عمران آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں تو پھر وہ عدالت سے ساڑھے تین سال تک مفرور اشتہاری کیوں رہے ؟ عمران نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دیا، غیر حاضر رہے ، پارلیمنٹ کو گالیاں دیتے رہے ، پھر پارلیمنٹ سے تنخواہ کیوں لیتے رہے ؟۔

انقلابی رہنما عمران نے کہا تھا کہ مر جاؤں گا مگر قرضہ نہیں لوں گا پھر اپنے حکومتی صوبے میں 5 سالوں میں 3 کھرب روپے قرضے کیوں لے لیے ؟کیا یہ حقیقت نہیں کہ 2013 میں صادق و امین عمران کے اثاثے ڈیڑھ کروڑ تھے جو 2017 میں بڑھ کر ڈیڑھ ارب کیسے ہو گئے ؟ ذرا قوم کو بتائیں گے کہ آپ کا ذریعہ آمدن کیا ہے ۔ ایسے میں میرا تحریک انصاف کے دوستوں سے سوال ہے کہ تبدیلی کے جھوٹے دعوے کرنے والاعمران جب ایک چھوٹے صوبے میں کچھ نہیں کر سکے تو پھر پورے پاکستان میں کیا کریں گے۔

مزید برآں شہباز شریف سے اٹک سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن اسمبلی ملک سہیل خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی اور اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بعد ازاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سنگاپور سمٹ نے پاکستان اور بھارت کے لئے ایک قابل تقلید مثال رکھی ہے ۔شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان سمٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورین جزیرہ میں لڑائی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے نہ رہے ہیں۔ جس کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف ا یٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی بھی دھمکی دیتے رہے ہیں۔میاں شہباز شریف نے کہا کہ اگر امریکہ اور شمالی کوریا ایٹمی جنگ کے قریب سے واپس آسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کشمیر پر دوبارہ مذاکرات کا آغاز نہ کر سکیں۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎