"استادکوبھی عزت دو"

جمہوریت میں ہر چار یا پانچ سال بعد عوام کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ حکمرانوں کا احتساب ووٹ کے زریعے کریں اور آئندہ اپنے لیے بہتر حکمران کا چناو کریں۔ یہ جمہوری عمل عام اصطلاح میں چناو یا الیکشن کہلاتا ہے ، جس میں کچھ ممالک صدارتی طریقہ کار اپناتے ہیں جبکہ بیشتر ممالک پارلیمانی نظام حکومت کی چھتری تلے چلتے ہیں۔الیکشن کے اس عمل کو بخوبی سرانجام دینے کیلئے دنیا بھر میں “الیکشن کمیشن” نامی ادارے موجود ہیں جو اپنے اپنے ملک میں آزادانہ انتخابات کروانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہر ملک میں الیکشن کمیشنز کیلئے قومی بجٹ کا ایک خاص حصہ مختص ہوتا ہے جو کہ الیکشن کے عمل کی بہتر تکمیل کیلئے درکار اخراجات کی مد میں استعمال کیا جاتا ہے۔جہاں اس عمل کی بہتر تکمیل بہت مالی معاونت چاہتی ہے وہیں ایک بہت بڑی ورک فورس بھی چاہیے ہوتی ہے۔ چونکہ انتخابات کے نتائج پر ہی ملک کا سیاسی مستقبل منخصر کرتا ہے لحظہ ضروری ہے کہ یہ ورک فورس ایماندار، پڑھے لکھے، صحیح غلط میں فرق کرنے والے اور سب سے زیادہ یہ کہ ریاست کے وفادار لوگ ہوں۔ مزید برآں ان افراد کی تمام ریاستی اداروں میں سے سب سے ذیادہ زہنی سختی کو برداشت کرنے اور بردبار ہونے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے، تاکہ انتخابات میں انتظامی لحاظ سے خرابیوں سے بچا جا سکے۔دنیا بھر میں کئی ممالک کے الیکشن کمیشنز ایسے افراد بھرتی کرتے ہیں جنکی مکمل ٹریننگ کی جاتی ہے تا کہ پروفیشنل اسٹاف موجود ہو جو ملک و ملت کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں کے انتخاب کا عمل شفافیت کے ساتھ عمل میں لا سکیں۔ اس کے برعکس پاکستانی الیکشن کمیشن کئی دہائیوں سے یہی کام سرکاری ملازمین کے ایک مظلوم ترین طبقے سے بلا معاوضہ اور انتہائی زلت آمیز انداز میں لیتا آیا ہے۔ اس طبقے کو دنیا بھر میں اچھی تنخواہ اچھی سہولیات اچھی مراعات اور انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا اور رکھا جاتا ہے (کیونکہ یہ طبقہ قوم کے مستقبل بکا معمار ہوتا ہے) وہیں پاکستان جیسے ملک میں یہ طبقہ قابل ترس گردانا جاتا ہے۔ جی ہاں! یہاں میری مراد انتہائی مودب و محترم اساتذہ کرام کا طبقہ ہے۔


پچھلی کئی دہائیوں اور بالخصوص پچھلے دس سال میں دیکھتے آئے ہیں کے سرکاری اساتذہ پولیو کے قطروں کی مہم سے لے کر مردم شماری اور مردم شماری سے الیکشن کروانے کی انتہائی کٹھن مشق میں بطور مفت کام کرنے والے مزفور کے کام میں لائے جاتے ہیں۔ قانون قدرت ہے اور اسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ “کسی سے بھی اس کی سکت سے ذیادو کام مت لو”۔ اس کے علاوہ بھی حقیقی بات یہ ہے کہ کسی مزدور سے اس کی اجرت سے ذیادہ کام لینا، اس پر ایک قسم کا ظلم ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے affected طبقہ پھر اپنے اصل کام میں بھی دنڈی مارتا ہے اور معاشرہ تباہی کی طرف جات ہے۔ اگر ہم کسی انسان سے اس کی طبع اور منصب کے خلاف کام لیں تو ضرور وہ کام خرابیوں سے بھر پور اور لاپرواہیوں سے لبریز ہو گا اور اس کام کا نتیجہ ہمیشہ خرابی اور مزید تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔استاد کسی بھی قوم میں ایک بہت عزت دار طبقہ گرگردانہ جاتا ہے ۔ ۔ جبکہ پاکستان میں الیکشن کے عمل کے دوران ان کے ساتھ انتہائی ناروں سلوک برتا جاتا ہے ۔ ۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ انتظام برائے سواری، رہائش، کھانا پینا سب کا سب الیکشن ڈیوٹی پر معمور اساتذہ کو خود کرنا ہوتا ہے۔ اس دیوٹی میں ذاتی اخراجات جو ہوتے ہیں ان کی کوئی واپسی نہیں کی جاتی اور اس سلسلے میں ڈیوٹی دینے والوں کو ان کی اس اضافی ڈیوٹی کے عوض کسی قسم کی کوئی پروموشن یا پھر تنخواہ میں اضافہ یا کوئی بھی قسم کا فائدہ نہیں دیا جاتا جو کہ ان کیلئے راحت کا باعث ہو۔ البتہ ایک چیز ضرور ہے جو اساتذہ کیلے ہر الیکشن کے بعد تیار ہوتی ہے جس میں عوام، میڈیا، ججز اور الیکشن کے امیدواران بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالتے ہیں۔ جی ہاں! الیکشن میں دھاندلی کے الزامات جو کہ صاف صاف ان محنتی اور بے لوث اساتذہ کی integrity پر تمانچہ مارنے جیسا ہے۔ اور یہ تمانچہ ہمیشہ سے ان الیکشن کراوانے والے استاذہ کو مارا جاتا ہےجبکہ وہ بیوروکریٹ جن کی یہ اصل ذمہ داری ہوتی ہے انہیں پروموشنز بھی ملتی ہیں مراعات بھی اور لمبے چوڑے بونس بھی۔میں اکثر سوچتا ہوں ۔ ۔ کہ استاد جو ساری زندگی میں سوائے عزت کے کچھ نہین کماتا ۔ ۔ ۔ کسی کے بچوں کی خاطر اپنا خون جلاتا ہے ۔ ۔ زہنی چکی پیستا ہے ۔ ۔ ۔ ان کسی کے بچوں کی ناکامی پر خود کو کوستا ہے ۔ ۔ ۔ خود کی سرزنش کرتا ہے ۔ ۔ اور ہر لحاظ سےچمن وطن کے ان کھلتے پھولوں کی بہترین آبیاری کرنا چاہتا ہے جب بعد از الیکشن یہی استاد الیکشن میں لگنے والی تمام allegations اور خود پر کرپٹ ہونے کی مہر ثبت کروا کر سرکاری سکولوں کالجوں میں جاتے ہونگے تو اپنے کاندھوں پر ان الزامات کے بوجھ ان پر کس قدر ناگوار گزرتے ہونگے ۔ ۔ کس قدر دکھی ہوتے ہونگے کے سالہا سال کی کمائی عزت پر یہ بے غیرت کرپٹ لٹیرے حکمران ہر پانچ سال بعد آ کر گندگی کے چھینٹے پھینک جاتے ہیں اور قوم کے ان معماروں کو آئیندہ کیلئے انہی داغوں کیساتھ چھوڑ خود اقتدار کے مزے لینے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔آخر میں یہی سوچ کیساتھ قلم کا ساتھ چھوڑ رہا ہوں کہ نہ جانے کب ہمارے لوگ، ہمارے ادارے ہمارے استاد کی عزت کا خیال کرینگے اور اس مظلوم طبقے کو بھی عزت دینگے۔ “استاد کو عزت دو”۔

از عظیم مشتاق ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎