6 راتوں سے نہ سونے والا کپتان

ہمیں ہر شکست کے بعد ایک قربانی کا بکرا چاہیے ہوتا ہے، ایشیا کپ کے بعد سرفراز احمد کی صورت میں مل گیا، ایونٹ میں ٹیم نے بدترین کارکردگی دکھائی، کپتان بالکل آؤٹ آف فارم رہے، ان پر تنقید جائز بھی ہے، مگر کیا وہ اکیلے ہی کھیلے دیگر 10 کھلاڑیوں کی کیسی پرفارمنس رہی، اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔

حسن علی، شاداب خان، محمد عامر اور بابر اعظم ہمارے اہم ترین پلیئرز تھے وہ کامیاب نہ رہے تو ٹیم کیسے جیتتی؟ کوچ مکی آرتھر سے بھی سوال کریں کہ کیوں انھوں نے کئی سینئرز کو باہر کیا، آخری میچ سے قبل جنید خان کو کیوں نہیں آزمایا، سلیکشن کمیٹی سے بھی پوچھیں کہ آپ نے حقدار کرکٹرز کو ڈراپ کرنے کی جرات کیسے کی؟ بدقسمتی سے جب فتح ملے تو کریڈٹ لینے سب سامنے آجاتے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے بعد بھی ایسا ہی ہوا تھا، چیف سلیکٹر نے ایک اعلیٰ شخصیت سے کہہ کر حکومت سے ایک کروڑ روپے کا انعام بھی لیا کہ اتنی اچھی ٹیم میں نے منتخب کی، اب وہ نظر ہی نہیں آ رہے، تمام تر ذمہ داری سرفراز پر ڈال کر سب چھپ گئے، ایسا اسی صورت ممکن تھا جب کپتان خود اسکواڈ منتخب کرتا، خود پلیئنگ الیون بناتا، خود 11 باربیٹنگ اور 50 اوورز بولنگ کرتا، یقیناً ایسا نہیں ہے پھر اسے اکیلے کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے، میں ہرگز سرفراز کی حمایت نہیں کر رہا، ان کی پرفارمنس اچھی نہیں، آپ بھول جائیں ماضی میں کیا کارنامے انجام دیے اور بالکل کپتانی سے ہٹا دیں بلکہ ٹیم سے بھی باہر کر دیں،مگرکیا اس سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی ہرگز نہیں۔

فی الحال صرف اس سوال کا جواب دے دیں کہ اگر سرفراز کو کبھی ٹیسٹ سے باہر کیا تو کوئی دوسرا کھلاڑی کپتان بننے کیلیے تیار ہے، شعیب ملک خود آئندہ سال ریٹائر ہونے کا کہہ چکے ، وہ ٹیسٹ کرکٹ پہلے ہی چھوڑ چکے، اب انھیں ٹی ٹوئنٹی میں قیادت سونپنے کی باتیں ہو رہی ہیں، کیا اس سے کوئی فائدہ ہوگا؟ بورڈ کو پہلے ہی چاہیے تھا کہ کسی نوجوان کو نائب کپتان بنا کر گروم کرتے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ کیا گیا، اب سرفراز ویسے ہی دباؤ کا شکار ہیں ایسے میں بجائے حوصلہ بڑھانے کے رضوان احمد کو بطور ریزرو وکٹ کیپر منتخب کر لیا، ٹیسٹ میں تو تبدیلی ممکن ہی نہ تھی،اس لیے ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں رکھ کر میچ کھلا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، ایشیا کپ میں بنگلہ دیش سے میچ میں ہار کے بعد سرفراز کو پریس کانفرنس میں 6 راتوں سے نہ سونے کا تذکرہ کرتے دیکھ کر مجھے تو بے حد دکھ ہوا، وہ ہمارا کپتان ہے، فتوحات سے ہمیں خوشیاں دیں تو اب بُرے وقت میں بھی ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

اب آسٹریلیا سے سیریز کیلیے اسکواڈ کا انتخاب کرلیا گیا ہے، اس سے واضح ہو گیا کہ سلیکٹرز غلطیوں سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہیں، ایک طرف نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا راگ الاپتے ہوئے 32 سالہ فواد عالم کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے کے باوجود چیف سلیکٹر ’’انزی دی لیجنڈ‘‘ (ٹویٹر پر وہ اپنا یہی نام لکھتے ہیں) کو ان کا ٹیلنٹ نظر نہیں آرہا، دوسری جانب نوجوان اسپنرز کو نظر انداز کر کے 33 سالہ بلال آصف کو منتخب کرلیا گیا، یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ سلیکشن کمیٹی بدستور نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کے مستقبل سے کھیلتی جا رہی ہے، بیچارے ایک اور کھلاڑی سعد علی کو بھی بغیر آزمائے اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا، کیا پانی پلانے سے ان کی ٹیلنٹ کا اندازہ لگایا ؟ اسی طرح اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ مکی آرتھر حفیظ کو سخت ناپسند کرتے ہیں، اسی لیے ڈومیسٹک میچ میں ڈبل سنچری کے باوجود ان کو واپس نہیں بلایا گیا۔

ایشیا کپ میں بھی سینئر آل راؤنڈر کی کمی ہر کسی نے محسوس کی تھی،ذاتی پسند ناپسند کی وجہ سے قومی کرکٹ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، انضمام الحق ماضی میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے کیونکہ ان کے پاس بیٹ تھا جس سے سب کو جواب دیتے رہے، اب ریٹائر ہونے کے بعد وہ مصلحتوں کا شکار اورکل کے بچے ان کی بات نہیں سنتے،وہاب ریاض کے بارے میں کوچ مکی آرتھر کہتے تھے کہ دو سال سے کوئی میچ نہیں جتوایا کیوں منتخب کریں، مگر اب دوبارہ ان کی یاد آ گئی، نجانے گھر بیٹھے انھوں نے کون سا میچ جتوا دیا۔

محمد عامر کافی عرصے سے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ ٹیسٹ نہیں کھیلنا چاہتے مگر بات نہیں سنی جا رہی تھی بالاخر اب ون ڈے ایشیا کپ میں خراب کارکردگی کی وجہ سے انھیں ڈراپ کر دیا گیا جس پر پیسر یقیناً بے حد خوش ہوں گے،آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز کیلیے بھی بدقسمتی سے پی ایس ایل والی ٹیم بنائی گئی، اب ڈومیسٹک کرکٹ کی بالکل بھی اہمیت نہیں رہی، جو لیگ میں اچھا پرفارم کرے فاسٹ ٹریک سے قومی اسکواڈ میں شامل ہو جاتا ہے، قائد اعظم ٹرافی میں کئی برس تک عمدہ پرفارم کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا، خوش قسمتی سے آسٹریلوی ٹیم بیحد کمزور اور بال ٹیمپرنگ کیس کے بعد پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلے گی۔

اسٹیون اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر پابندی کا شکار جبکہ کئی دیگر اہم پلیئرز انجری کے سبب باہر ہیں، ایسے میں پاکستان کے پاس اسے قابو کرنے کا اچھا موقع موجود ہو گا، البتہ ایشیا کپ میں بدترین شکستوں نے کھلاڑیوں کا اعتماد صفر کر دیا ہے، انھیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کیلیے بھی آزاد چھوڑ دیا گیا تھا جس کی وجہ سے توجہ کھیل پر نہ رہی، یہ سراسر پی سی بی کی کمزوری تھی، ناکامیوں کے دور میں ٹیم مینجمنٹ کے بعض ارکان بھی انھیں ہر لمحے کی رپورٹس دیتے رہے، منفی باتوں کا علم ہونے سے وہ زیادہ دباؤ کا شکار ہوئے اورکارکردگی مزید متاثر ہوگئی۔ اب یہ مینجمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ٹیم کو دوبارہ قدموں پر کھڑا کرتی ہے، ایک بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ فتح کی صورت میں بھی قدم زمین پر ہی رکھنے ہیں، جب کبھی کسی کے ذہن میں غرور آئے تو اسے ایشیا کپ کی ویڈیوز دکھا دوں گا خود بخود ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎