حکومت کا منی لانڈرنگ روکنے کیلئے قوانین میں ترمیم کا فیصلہ

اسلام آباد: ملک سے غیر قانونی طور پر رقم کی بیرونِ ملک منتقلی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کی بین الاقوامی احکامات کے تحت وفاقی حکومت نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا۔


اس سلسلے میں’ہنڈی‘ ’حوالہ‘ سمیت رقم کی منتقلی کے غیر قانونی ذرائع اور ٹیکس سے بچنے کے طریقوں پر نظر رکھنے کے لیے وفاقی بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی تجاویز کو اجلاس میں حتمی شکل دے دی گئی اور جلد منظوری کے لیے وزیراعظم کو ارسال کردی جائے گی۔

اجلاس میں اٹارنی جنرل، سییکریٹری خزانہ، سیکریٹری قانون وانصاف، سیکریٹری کامرس، ایڈیشنل سیکریٹری امورِخارجہ، گورنر اسٹیٹ بینک، داخلہ اور خزانہ کے خصوصی سیکریٹریز سمیت ایف بی آر، اسٹیٹ بینک کے شعبہ نگرانی برائے مالیاتی امور، ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو کے دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ پاکستان کو پہلے ہی منی لانڈرنگ اور دیشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے دباؤ کا سامنا ہے۔

منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم سے ٹیکس سے بچنے کے طریقہ کار پر نظر رکھنے میں ایف بی آر کا کردار مزید متحرک ہوجائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رقم کی غیر قانونی منتقلی خاص کر کرنسی اسمگلنگ کے حوالے سے ایف بی آر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور فیصلہ کیا گیا رقم خاص کر ڈالر کی بیرونِ ملک منتقلی روکنے کے لیے محکمہ کسٹم کو بھی مزید فعال کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شعبہ کسٹم اور ایف آئی اے ملک سے انسانی ذرائع سے رقم کی اسمگلنگ روکنے کی ذمہ دار ہے چناچہ اسمگلروں کے لیے سخت سزاؤں کی بھی تجویز دی گئی۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایف بی آر کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ہنڈی اور حوالہ رقم کی منتقلی کے عمومی طور پر رائج ذرائع ہیں اور انہیں کچھ مذہبی طبقات کی جانب سے فروغ دیا جاتا ہے جو بینک سے رقم کے لین دین کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔

ہنڈی اور حوالہ کے نظام کی وضاحت دیتے ہوئے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح رقم کی منتقلی محض بھروسے پر مبنی ہوتی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے اہلِخانہ کو رقم ارسال کرنا چاہتا ہے تو وہ ہنڈی کرنے والے شخص سے رابطہ کرتا ہے اور اسے مقامی کرنسی میں رقم دے کر وصول کنندہ کی تفصیلات فراہم کردیتا ہے۔

ہنڈی کرنے والوں کے دنیا کے کئی ممالک میں راوبط ہوتے ہیں جس کے بعد وہ مطلوبہ ملک میں موجود اپنے شراکت دار سے رابطہ کرتا ہےبعد ازاں وہ شخص وصول کنندہ سے رابطہ کر کے رقم وصول کرنے کے لیے کہتا ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

مقبول ٹیگ‎‎‎