ملکی برآمدات کی شرح میں 4.6 فیصد اضافہ

اسلام آباد : رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات کی شرح میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان بیور آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت کی جانب سے برآمدات کی شرح میں زیادہ اضافے کی کوششوں کے باجود مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں صرف 4.6 فیصد اضافہ ہوسکا۔

برآمدات کی شرح میں یہ اضافہ مالی مشکلات ختم کرنے کی حکومتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں روپے کی مد میں برآمدات کی شرح میں 23.12 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال زرمبادلہ کی شرح میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے رواں برس ستمبر کے پہلے ہفتے میں روپے کی قدر میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی۔

گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر اس وقت 138 روپے تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ برس دسمبر سے اب تک روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔

رواں برس جولائی سے ستمبر تک کے عرصے میں برآمدات 5 ارب 40 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

تاہم برآمدات کی شرح میں ستمبر کے مہینے میں 3.55 فیصد اضافے کے بعد گزشتہ برس کے مقابلے میں 1 ارب 66 کروڑ ڈالر سے ایک ارب 73 کروڑ دالر تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب درآمدات اور بجٹ خسارے کی شرح میں 1.61 فیصد کمی سے 8 ارب 87 کرور ہوگئی، گزشتہ برس یہ 9 ارب ایک کروڑ تھی۔

عداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارے کی رفتار میں رواں برس کچھ کمی آئی ہے، اگر دیگر مہینوں میں بجٹ خسارے کی یہی شرح رہتی ہے تو بیرونی شعبے میں حکومت کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔

پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 18-2017 میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 15.8 فیصد کی اعلیٰ ترین سطح 37 ارب 60 کروڑ تک پہنچ گیا تھا۔

رواں برس اگست سے اقتدار میں آنے والی حکومت بڑھتے ہوئے درآمداتی اخراجات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کی کوشش میں ہے جو گزشتہ برس 18 ارب 50 کروڑ کی خطرناک سطح پر پہنچ گیا تھا۔

تمام موجود فورمز سے مایوسی کے بعد آخر کار حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج لینے کا فیصلہ کیا۔

برآمدات اور ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں سب سے اہم ہیں،کم ہوتے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر موجودہ حکومت کے لیے ایک اہم معاشی چیلنج ہیں۔

یہ خبر ڈان اخبار میں 11 اکتوبر 2018 کو شائع ہوئی

آپ کےلیے تجویز کردہ خبریں‎‎