پاکستان کو دو سال معاشی چیلنجز کا سامنا رہے گا، ورلڈ بینک

لاہور: (ویب ڈیسک) ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دو سال معاشی چیلنجز کا سامنا رہے گا، عوام کو غربت سے نکالنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں دشواری ہو گی، خسارہ کم کرنے اور اصلاحات کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے، اور اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی کے رجحان نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز پر ورلڈ بینک کی رپورٹ بھی سامنے آگئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال کم ازکم دو سال تک دباؤ میں رہے گی۔ رواں مالی سال شرح نمو کمی کے ساتھ 4.6فیصد، اور آئندہ مالی سال 4.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ افراط زر کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔جواگلے دو سال میں7 اور 7.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگلے دو سال ملکی درآمدات میں کمی آئے گی، جو مجموعی قومی پیدوار کا 52 اور49.8فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ملکی برآمدات میں بہتری کا امکان ہے، جو جی ڈی پی کا 24.9 اور 26.6 فیصد رہیں گی۔بات کی جائے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی، تو اس میں ماضی کے مقابلے میں کمی کی توقع ہے۔اگلے دوسال یہ خسارہ 3.8 اور 2.4فیصد رہے گا۔غیرملکی سرمایہ کاری 3.9 اور 4 فیصد، جبکہ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کمی کے ساتھ 13.1 اور 15.1ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

ملک کا تجارتی خسارہ اضافے کے ساتھ 5.0 اور 4.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کےمطابق، رواں مالی سال کے آخری چھ ماہ میں برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کا امکان ہے۔ ورلڈ بینک نے حال ہی میں پیش کیے گئے منی بجٹ کو درست قدم قرار دیا، ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ ملکی معیشت کو ٹریک پر لانے کیلئے فوری اور جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔

عالمی بینک کےمطابق پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے، جس کے پاس آپشنز محدود ہیں۔ پاکستان کے اخراجات بہت زیادہ اور، معیشت گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ بڑھتے ہوئے خسارے کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ کےلیے تجویز کردہ خبریں‎‎