شہباز شریف کی گرفتاری، پارلیمنٹ کے باہر ‘احتجاجی ایوان’

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر پارلیمانی رہنماؤں نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاجاً قومی اسمبلی کے باہر ‘فرضی ایوان‘ میں مشترکہ طور پر 7 قراردادیں منظور کرلی۔

سابق قومی اسمبلی اسپیکر ایاز صادق نے ‘ایوان’ کی صدارت کی جس میں شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف توجہ دلاؤ ٹونس پیش کیا گیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیش جماعتوں کے ارکان جمع ہوئے جنہوں نے حکومت مخالف بینر اٹھا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 5 اکتوبر کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان کے لیے طلب کیا گیا تھا جہاں انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا تھا۔

نیب کی جانب سے 6 اکتوبر کو شہباز شریف کو لاہور کی احتساب عدالت پیش کیا گیا جہاں عدالت سے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی، تاہم عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کو نیب کے حوالے کردیا تھا۔

پارلیمنٹ کے باہر ‘فرضی ایوان’ میں پیش کردہ قرارداد میں 54 دنوں میں 28 سو ارب روپے کا نقصان پہنچانے، حکومت کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو متنازع بنانے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کڑی شرط مان کر قرض لینے سمیت دیگر کی مزمت کی گئی۔

اس حوالے سے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ یہ ایوان تاریخی اہمیت کا حامل ہے، سب کو معلوم ہے کہ اداروں نے فیصلہ کیا کہ صدر،وزیر اعظم ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹر کون ہوں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے صوبے میں ‘باپ’ پارٹی بنا کر بعض پارٹیوں کو توڑنے کا آغاز ہوا اور نواز شریف اور مریم کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔

ان کا کہناتھا کہ ’وہ‘ اس عمل میں مصروف ہیں کہ ڈرا دھمکا کر فارورڈ بلاک بنایا جائے لیکن آج مقابلہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے اختیار اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب سے استعفی کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے نیب کا شہباز شریف کے خلاف کیس بے بنیاد قرار دیا اور کہاکہ شہباز شریف پر رقم لینے کا کوئی الزام نہیں ہے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ احتجاج کی شنوائی نہ ہوئی تو احتجاج آگے بڑھے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بابر اعوان کے خلاف بھی انکوائری چل رہی ہے لیکن گرفتار نہیں کیا گیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز کو جنرل الیکشن کیلئے کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘جیلیں ختم ہو جائیں گی مگر لوگ ختم نہیں ہو‍‍ں گے’.

مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے پارلیمنٹ پر حملے کی بھی لائیو کوریج کی اجازت دی مگر تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے سے روک دیا جس کی ہم مزمت کرتے ہیں۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎