آسٹریلیا اور عثمان خواجہ نے متعدد ریکارڈز پاش پاش کر دیے

پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں عثمان خواجہ کی شاندار کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا نے میچ ڈرا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی نئے ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیے۔

پاکستان نے دبئی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو فتح کے لیے 462رنز کا ہدف دیا تھا اور آسٹریلیا کو میچ ڈرا کرنے کے لیے 140اوورز تک بیٹنگ کرنا تھی۔

آسٹریلیا نے اوپنرز ایرون فنچ اور عثمان خواجہ کے عمدہ کھیل کے بعد ٹریوس ہیڈ اور کپتان ٹم پین کی عمدہ اننگز کی بدولت سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ ڈرا کر دیا۔

اس اننگز کے دوران آسٹریلیا نے 8وکٹوں کے نقصان پر 462رنز بنائے جو متحدہ عرب امارات میں کسی بھی ٹیم کا چوتھی اننگز میں سب سے بڑا اسکور ہے۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں چوتھی اننگز میں سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا جب اس نے 2010 میں اسی گراؤنڈ پر جنوبی افریقہ کے خلاف 3وکٹوں کے نقصان پر 343رنز بنائے تھے۔

آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف میچ کی چوتھی اننگز میں 139.5اوورز تک بیٹنگ کی جو تکنیکی اعتبار سے آسٹریلیا کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ڈرا میچ کی طویل ترین اننگز ہے۔

گیندوں کے اعتبار سے آسٹریلیا نے ڈرا ٹیسٹ میں اپنی سب سے طویل چوتھی اننگز 1961میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایڈیلیڈ کے مقام پر کھیلی تھی جب 8 گیندوں کا اوور ہوتا تھا اور آسٹریلین بلے باز نے 120اوورز کا سامنا کرتے ہوئے کُل 960گیندیں کھیلی تھیں۔

10سال بعد 1971 میں اسی میدان پر آسٹریلین ٹیم نے چوتھی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف ایشز ٹیسٹ میں 115 اوورز تک بیٹنگ کی تھی اور 8 گیندوں کا اوور ہونے کے سبب میزبان بلے بازوں نے 920 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔

تاہم ٹیسٹ کرکٹ میں 6گیندیں فی اوور کا قانون متعارف کرانے کے بعد سے یہ ڈرا پر ختم ہونے والے میچ میں آسٹریلین کرکٹ کی تاریخ کی طویل ترین اننگز ہے اور انہوں نے آج تک 139.5اوورز سے زائد چوتھی اوورز میں بیٹنگ نہیں کی۔

یہ ایشیا میں کسی بھی ڈرا ٹیسٹ میچ کی تیسری طویل ترین چوتھی اننگز ہے جہاں ڈرا ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ 142اوورز کھیلنے کا ریکارڈ بنگلہ دیش کے پاس ہے جس نے 2005 میں زمبابوے کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

اس فہرست میں دوسرے نمبر پر انگلش ٹیم موجود ہے جس نے 2003 میں سری لنکا کے خلاف متیاہ مرلی دھرن کا سامنا کرتے ہوئے چوتھی اننگز میں 140اوورز کھیلنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔

یہ مجموعی طور پر آسٹریلیا کی چھٹی اور ایشیا میں کھیلی گئی چوتھی طویل ترین چوتھی اننگز ہے۔

دوسری جانب مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے والے عثمان خواجہ آسٹریلیا کی جانب سے چوتھی اننگز میں طویل ترین اننگز کھیلنے والے بلے باز بن گئے جبکہ مجموعی طور پر وہ مائیک ایتھرٹن کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے بلے باز ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز میں سب سے طویل اننگز کھیلنے کا ریکارڈ مائیک ایتھرٹن کے پاس ہے جنہوں نے 1995 میں جنوبی افریقہ کے خلاف 645منٹ تک بیٹنگ کی تھی جبکہ عثمان خواجہ نے دبئی ٹیسٹ 524 منٹ تک بیٹنگ کر کے یہ کارنامہ انجام دیا۔

عثمان خواجہ نے اس میچ میں مجموعی طور پر 767 منٹ تک بیٹنگ کی اور اس طرح وہ آسٹریلیا کی جانب سے کسی بھی ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ منٹ تک بیٹنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گئے۔

اس سلسلے میں مارک ٹیلر سرفہرست ہیں جنہوں نے آج سے ٹھیک 20سال قبل پاکستان ہی کے خلاف کراچی ٹیسٹ میچ میں 334 اور 92رنز کی اننگز کے دوران مجموعی طور پر 938منٹ تک بیٹنگ کی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ نے ایک اور منفرد ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا اور وہ پاکستان میں پیدا ہونے والے واحد کرکٹر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ہی کے خلاف سنچری اسکور کی۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎