آئی ایم ایف سے کتنا قرض لینا ہے، مذاکرات میں طے ہوگا، اسد عمر

لاہور: (دنیا نیوز) وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انشا اللہ یہ پاکستانی تاریخ کا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو گا، ہم نے 12 ارب ڈالر کا گیپ پورا کرنا ہے، دیکھنا ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کتنا حصہ ڈالے گا؟


دنیا نیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ“ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کہنے پر سارے اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام تین سال کے لیے ہو گا، ہم نے بارہ ارب ڈالرکا گیپ پورا کرنا ہے، دیکھنا ہے بارہ ارب ڈالر میں سے آئی ایم ایف کتنا حصہ ڈالے گا۔ کوشش کریں گے آئی ایم ایف سے پہلی قسط میں زیادہ پیسہ ملے، ورلڈ بینک اور دیگر سے بھی 5 ارب ڈالر کی کوشش کریں گے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے مارکیٹ کو اعتماد ملے گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجٹ اور بیرونی خسارے میں کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں، آئی ایم ایف کا مشن 7 نومبر کو آ رہا ہے، حکومت پاکستان کا مربوط پلان آئی ایم ایف کے سامنے رکھیں گے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتیں بھی حکومت کیلئے چیلنج ہیں، امریکا کی ایران پر پابندیوں سے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا۔

اسد عمر نے کہا کہ میں سٹاک ایکسچینج کے رسک مینجمنٹ سسٹم کو بہتر سمجھتا ہوں، سٹاک کے معاملات سے لاتعلق نہیں ہوں، آج بھی ملاقاتیں کی ہیں، سٹاک مارکیٹ میں حکومتی مداخلت درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ سیاسی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ طے نہیں ہونا چاہیے، سٹیٹ بینک اور مانٹیری پالیسی کو ایکسچینج ریٹ طے کرنا چاہیے۔

پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان تحریکِ انصاف کے بنیادی منشور کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لاکھوں گھروں کی تعمیر آسان چیلنج نہیں ہے، گھر سکیم کیلئے زمین کی فراہمی بڑا ایشو ہے، اس منصوبے کیلئے سرمایہ کاری پرائیویٹ سیکٹر سے آئے گی۔

ڈالر کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روپے پر دباؤ کی وجہ داخلی صورتحال نہیں، عالمی وجوہات بھی ہیں۔ خطے کے تمام ممالک کی کرنسی اس وقت دباؤ اور گراوٹ کا شکار ہے۔ چین اور امریکا کی تجارتی جنگ شروع ہو چکی ہے، عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تمام ممالک کی کرنسی گری ہے۔ روپے کی قدر پہلے ہی کم ہو رہی تھی، سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو بڑھانا شروع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی تو ڈالر 125 روپے کا تھا، سٹیٹ بینک نے شرح سود میں بھی اضافہ کیا، اس کے علاوہ 2 ارب ڈالر کا ماہانہ خسارہ ہو رہا تھا، خسارہ بڑھنے سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے۔

اسد عمر نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے بجٹ خسارہ 900 ارب روپے کم دکھایا، 2 ارب روپے کا ماہانہ خسارہ ہو رہا تھا، جو پہلے سالانہ خسارہ ہوتا تھا تاہم ہمارے اقدامات کی وجہ سے معاشی استحکام میں مدد مل رہی ہے۔

اکنامک پالیسی پر بات کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ معاشی بہتری کیلئے تجارتی خسارے میں 40 فیصد تک کمی لائے ہیں، معاشی روڈ میپ پر آئی ایم ایف کی ہدایات کا انتظار نہیں کریں گے، آئی ایم ایف سے پہلی ملاقات میں معاشی روڈ میپ سامنے رکھیں گے۔ ہم نے پاکستان کی برآمدات کو ہر صورت بڑھانا ہے، برآمدات بڑھنے سے ملکی معیشت بہتر ہوگی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوگرا نے بتایا کہ گیس سیکٹر میں بھی گردشی قرضے بڑھ گئے ہیں، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے 154 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، اوگرا کی تجاویز کے برعکس گیس کے ریٹ زیادہ نہیں بڑھائے گئے۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام نیپرا دیکھتا ہے، نیپرا کے مطابق ایک ارب ستر کروڑ روزانہ خسارہ ہو رہا ہے۔ نیپرا نے تین روپے فی یونٹ بڑھانے کا کہا ہے تاہم بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ ابھی ہونا ہے، کوشش کریں گے غریبوں پر بجلی کی قیمتوں کا بوجھ کم ڈالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا کے مطابق اس سال 550 ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے، بجلی بحران سے نمٹنے کا فیصلہ جلد کرینگے، طریقہ کار زیرِ غور ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎