آپریشن ضرب عضب کہ پہلے شہید کیپٹن آکاش ربّانی کی بہادری کی عظیم داستان

یہ کہانی ہے آپریشن ضرب عضب کہ پہلے شہید کیپٹن آکاش ربّانی کی جب ہم بہادری کی یہ داستان پڑھتے ہیں تو ہمارا یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان انشااللہ قیامت کی صبح تک کہ لیے ہی بنا ہے کیپٹن آکاش نے آپریشن ضرب عضب میں بہادری کی وہ داستان رقم کی ہے جو ہمیشہ پاک آرمی کہ جوانوں کے لئے حوصلہ کا باعث بنے گی

کیپٹن آکاش ١٩٩٠ میں پاکستان کہ شہر ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنے دادا کہ کہنے پر پاک فوج میں شامل ہو گیے انہوں نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرنے کے بعد ٢٠٠٩ میں ملٹری اکیڈمی کاکول جوائن کی اور٢٠١١ میں ١٢٣ پی ایم اے لانگ کورس مکمل کر کے پاک فوج میں شامل ہو گیے جہاں پے انہوں نے مختلف کورسز کیے اور تیسری پوزیشن حاصل کی اس کہ بعد ایس ایس جی رضاکارانہ طور پر جوائن کر لی

آپریشن ضرب عضب سے پہلے کیپٹن آکاش نے تھوڑے عرصے کے لئے آپریشن میرانشاہ میں بھی حصّہ لیا تھا جہاں پے انہوں نے بہادری اور شجاعت کی شاندار مثال قائم کی جس کہ بعد آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا اور انہیں اس آپریشن میں انتہائی اہم ذمہ داری سونمپی گیی

انسانی تاریخ کی سب سے مشکل جیتی ہوئی جنگ آپریشن ضرب عضب تصور کی جاتی ہے اس جنگ میں دشمن اونچائی پے تھا اور پاک فوج نچلی جگہ پے اس آپریشن میں کیپٹن آکاش کو ایک مشن دیا گیا دہشت گردوں نے کچھ بچوں کو اغوا کیا تھا اور ان کی برین واشنگ کا کام کر رہے تھے اور اس کے علاوہ کچھ نوجوانوں کو دہشت گردی کرنے پر اکسا بھی رہے  تھےاور دہشت گردی کرنے پرمجبور  کر رہے تھے اور جوانوں پر ظلم و ستم کہ وہ پہاڑ توڑے جا رہے تھے جن کو بیان کرنا  انتہائی مشکل ہے پاک فوج کو دشمنوں کے اس انتہائی مشکل ٹھکانہ کی انٹیلی جنس رپورٹ موصول ہوئی تھی اور ان بچوں اور جوانوں کو وہاں سے نکالنا بہت ضروری تھا ورنہ دہشت گردوں نے ہمارے ہی بچوں کو ہمارے  خلاف استعمال کر دینا تھا یہ مشن جتنا نا گزیر تھا اتنا ہی کٹھن بھی اس لئے اس  انتہائی مشکل مشن کے لیے ایس ایس جی کمانڈو کیپٹن آکاش ربّانی اور ان کی ٹیم کا انتخاب کیا گیا

آپریشن کا راستہ انتہائی دشوار گزار تھا راستے میں کافی ندیاں اور دشوار گزار پہاڑیاں آتی تھی جو اس آپریشن کو مزیدکٹھن بنا رہی تھی کیپٹن آکاش اور ان کا دستہ انتہائی مہارت اور ہوشیاری کے ساتھ منزل کی جانب جا رہا تھا کہ جب ٹارگٹڈ مقام پہ پہنچا تو دہشت گردوں کا انتہائی کٹھن پہرا موجود تھا دہشت  گرد تعداد میں بھی انتہائی زیادہ تھے اور اونچائی پے بھی تھے کیپٹن آکاش نے  اپنے دستے کے ہمراہ خاموشی کے ساتھ دشمن کے  قلعہ کی جانب پیشقدمی شروع کر دی اور دشمن کے ٹھکانہ میں چلے گیے جہاں پے دہشت گرد انتہائی کثیر تعداد میں موجود تھے یہاں پے دہشت گرد  کیپٹن آکاش کی جرات اور شجاعت دیکھ کر پریشان ہو گیے کیپٹن آکاش نے تعداد میں کم ہو نے کے باوجود دشمنوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کافی دشمنوں کو جہنم واصل کیا شدید لڑائی جاری تھی  کیپٹن آکاش نے اس طرف پیش قدمی کی جہاں پے بچے اور جوان قید تھے جب کے ان کے ساتھی مسلسل دہشت گردوں کے خلاف نبردآزما تھے بچوں تک پونچھنے میں جو بھی رکاوٹ بیچ میں آئی کیپٹن آکاش نے ہر رکاوٹ کو ختم کر دیا انہوں نے بہت سے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا اور بچوں کو قید سے باہر نکال لاۓ اس نیک کام کو سر انجام دیتے ہوئےکیپٹن آکاش کو سنائپر کے ١١ راؤنڈ لگے اور کیپٹن آکاش ہمیشہ کے لیے امر ہو گیے

 کیپٹن آکاش ربّانی نے بہادری اور شجاعت کی وہ داستان رقم کی ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جاۓ گی کیپٹن آکاش ربّانی کے والد کا کہنا ہے کہ انھے اپنے بیٹے کی اس عظیم قربانی پے فخر ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی تھی اور ہمہ وقت پاکستان کے لئے مر مٹنے کو تیار رہتا تھا کیپٹن آکاش ربّانی کی والدہ کوئی عام خاتون نہیں ہیں وہ ایک شہید کی ماں ہیں ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن آکاش ربّانی اس دنیا کہ لیے بنے ہی نہیں تھے ان میں فرشتوں جیسی صفات تھی دنیا والوں جیسی کوئی برائی ان کے بیٹے میں نہیں تھی وہ انتہائی پاک صاف اور عظیم انسان تھے کیپٹن آکاش کی والدہ انھیں ہمیشہ دعا دیا کرتی تھی کہ میرا بیٹا ہزاروں سال جیے اور یوں کیپٹن آکاش شہید ہو کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیے

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎