بھارت میں مسلمانوں کے قاتل اپنے انجام تک پہنچ گئے

نئی دہلی کی عدالت نے 42 مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث اپنے ہی 16اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے


ڈان نیو زکے مطابق دہلی ہائیکورٹ نے میرٹ کے علاقے ہاشم پورہ میں 1987 میں 42 مسلمانوں کے قتل کے جرم میں اترپردیش کے پی اے سی کے سابق اہلکاروں کو سزا سنائی۔عدالت نے ٹرائل کورٹ کا 2015 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا، جس میں تمام اہلکاروں کو جرم سے بری کیا گیا تھا۔ساتھ ہی عدالت نے تمام مجرموں کو ہدایت دی کہ وہ نئی دہلی میں عدالت کے سامنے خود کو سرینڈر کریں۔

خیال رہے کہ عدالت نے ریاست اترپردیش، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی)، کچھ نجی پارٹیوں اور قتل عام میں بچ جانے والے ذوالقفار ناصر کی جانب سے دائر اپیلوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد 6 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔21 مارچ 2015 کو ٹرائل کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے 16 اہلکارون کو بری کیا تھا اور کہا تھا کہ ناکافی ثبوتوں کے باعث ان کی شناخت نہیں ہوسکی۔تاہم این ایچ آر سی نے اس معاملے میں مداخلت کی تھی اور اس قتل عام کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎