آسیہ بی بی کی رہائی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا

آسیہ بی بی کے مقدمے نے ملک کی رائے عامہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر کیا گیا جبکہ عوام کا ایک طبقہ فیصلے کے خلاف سڑکوں پر اھتجاج کرتا دیکھائی دیتا ہے۔.


 پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل جا کر ملاقات کی تھی، اور ان کے حق میں بات کی تھی، جس کی پاداش میں ان کے اپنے محافظ پولیس اہلکار ممتاز قادری نے چار جنوری 2011 میں اسلام آباد کی مصروف کوہسار مارکیٹ میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

اس وقت بھی بہت سے لوگ ممتاز قادری کو حق بجانب اور شہید قرار دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے آسیہ بی بی کو قتل کرنے پر پانچ لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎