خاندان سے جڑے کاروبار محض تین نسلوں تک ہی چل پاتے ہیں، ماہرین

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ 80 فیصد سے زائد کمپنیاں خاندانی کاروبار سے منسلک ہیں، تاہم ان میں سے بہت سی کمپنیاں نئی نسل کے کاروبار سنبھالنے کے دوران ہی ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اپنی بمشکل ہی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی آپ کو ملے گی۔

امروز گروپ آف کمپنیز سے وابستہ عمید ریاض کا کہنا ہے کہ کامیاب خاندانی کاروبار چھوٹے چھوٹے ممالک کی طرح ہوتے ہیں، خاندان کے افراد باہمی ہم آہنگی سے رہیں اور کامیابی سے کاروبار بھی کرتے رہیں، اس کے لیے انکو اپنا آئین اور قانون بنانا پڑتا ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں جمعرات کومنعقد ہونے والی ایک تقریب میں خاندانی کاروبار سے وابستہ نمایاں کاروباری شخصیات موجود تھیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےعمید نے کہا تیسری نسل کے بزنس سنبھالنے سے قبل خاندانی آئین تیار کرلینا چاہیے، کیوں کہ اسی مرحلے پر آپس کے تنازعات کی وجہ سے خاندانی کاروبار ناکامی کی دلدل میں دھنسنا شروع ہوجاتے ہیں۔

عمید کی کہی ہوئی بات کو وقت نے جابجا ثابت کیا ہے اور ڈیٹا سے بھی یہ بات پتا چلتی ہے کہ تیسری نسل کے کاروبار سنبھالنے سے پہلے زیادہ تر بزنسز ناکام ہوجاتے ہیں۔

خاندانی کاروبار سے وابستہ کچھ کمپنیاں یقیناً غیر معمولی طور پر طویل العمر ہوسکتی ہیں، لیکن خاندانی بزنسز کی اوسطً عمر محض تین نسل جتنی ہی ہوتی ہے۔ دنیا کی چند بڑی پیشہ ورانہ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک پرائس واٹر ہاؤس کوپرز ہے۔ اس فرم نے 2016 کے سروے میں کہا کہ محض 12 فیصد کمپنیاں ہی تین نسلوں سے آگے بھی کاروبار جاری رکھ پاتی ہیں۔

تاہم عمید کا کہنا ہے کہ خاندانی کاروبار والی کمپنیاں اگر فیملی کا آئین بنا لیتی ہیں تو ان کی ترقی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

خاندان کے افراد بزنس کے حوالے سے حکمت عملی اور پالیسیز تیار کرتے ہیں۔ ان پالیسیز میں کاروبار کے اصول طے کیے جاتے ہیں، مثال کے طور پر ریٹائرمنٹ کے لیے کیا عمر ہونی چاہیے، بھائی بہنوں میں سے کسی کے کمپنی میں کام کرنے کے لیے کیا پالیسی ہونی چاہیے اور سی ای او کی اپوائنٹمنٹ کے لیے کیا شرائط ہیں۔ اس طرح خاندان کے افراد کے درمیان پیش آنے والے تنازعات کے حوالے سے بھی رہنماء اصول متعین کیے جاتے ہیں۔

تقریب میں موجود دوسرے ماہرین بھی عمید سے متفق دکھائی دیے، آئی بی اے کے سینٹر فار ایجوکیشن کے ایف ایم بی پروگرام کی ڈائریکٹر، عائشہ انس ، کہتی ہیں خاندانی کاروبار کو پیش آنے والے زیادہ تر مسائل خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور ان کی نوعیت کاروباری نہیں ہوتی۔

عائشہ کا ماننا ہے کہ ایسے کاروبار عام کاروبار سے مختلف ہوتے ہیں کیوں کہ ان میں خاندان اور بزنس ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں اور جیسے جیسے یہ ترقی کرتے ہیں ، ان میں پیچیدگیاں پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

ایسے کاروبار میں جب دوسری اور تیسری نسل کام سنبھالتی ہے تو کاروبار کی بقا اور تسلسل کے حوالے مسائل جنم لیتے ہیں اور فیملی بزنس کانفرنس کا مقصد ان تمام مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔

فیملی بزنس کانفرنس اپنے دوسرے سال میں پہنچ گیا ہے۔ فیملی بزنس کانفرنس ایک خودمختار فورم ہے جہاں پر نمایاں اور قابل قدر خاندانی بزنسز کا اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ پاکستان کے نہایت کامیاب کارپوریٹ رہنماء کے ساتھ فیملی بزنس کانفرنس ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں آپ خاندانی کاروبار سے منسلک افراد، بورڈ ممبرز اور سی ای اوز کے ساتھ اپنے خیالات اور تجربات بانٹ سکتے ہیں۔ خیالات کے اس تبادلے سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اچھی دیکھ بھال کیسے ان کے بزنس کو تبدیل کرسکتی ہے۔

فیملی بزنس کانفرنس کے منتظم پرویز اقبال کہتے ہیں کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد فیملی بزنس ایوارڈ کا اجراء کرنا ہے۔

دنیا بھر کی معیشتوں میں خاندان سے جڑے کاروبار ایک اہم مقام رکھتے ہیں لیکن ان کو میڈیا میں کوریج نہیں دی جاتی ہے۔

زیادہ تر ممالک میں خاندان سے جڑے کاروبار معیشت کا دو تہائی حصہ ہوتے ہیں جو کہ عالمی جی ڈی پی کا 90 فیصد ہے،ایسے کاروبار دنیا بھر کی 50 سے 80 فیصد نوکریاں فراہم کرتے ہیں اور قومی آمدنی، ترقی اور روزگار میں اچھا خاصا اضافہ کرتی ہیں۔

افتخار کہتے ہیں کہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اگر کاروبار کی نئی نسل کو منتقلی کے وقت ایک نپا تلا انداز اختیار نہ کیا جائے تو اس بات کا امکان ہوتا ہے ایسے کاروبار اپنی مکمل استعداد حاصل نہیں کرپائیں اور مسابقت کے ماحول میں آپس کی رنجشوں اور جھگڑوں کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہوجائیں۔

وہ کہتی ہیں کہ نظم و نسق کا نظام ایسے کاروبار کے لیے اہم ہوتا ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ کاروبار پھلتا پھولتا اور ترقی کرتا رہے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎