دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک 5 لاکھ افراد مارے گئے، رپورٹ

واشنگٹن: ایک امریکی یونیورسٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ 17 سال سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں دنیا بھر سے اب تک 5 لاکھ سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 23 ہزار شہری جاں بحق ہوئے جبکہ دیگر افراد حکومتی کارروائی کے دوران مارے جانے والے دہشت گرد ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کے بعد 2001 میں امریکا کی جانب سے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد پاکستان، افغانستان اور عراق میں اب تک 5 لاکھ 7 ہزار افراد مارے جاچکے ہیں، جبکہ ان میں گزشتہ 2 سال کے دوران 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 3 لاکھ 70 ہزار وہ افراد ہیں جو براہِ راست دہشتگردی کے واقعات میں مارے گئے جن میں شہری، سیکیورٹی اہلکار، صحافی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

اکتوبر 2018 تک کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک افغانستان میں ایک لاکھ 47 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں افغان شہری، سیکیورٹی اہلکار اور دہشت گرد شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ 6 ہزار 3 سو 34 امریکی فوجی و کانٹریکٹر اور ایک ہزار ایک سو اتحادی فوج کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2003 میں بغداد پر امریکی حملے کے بعد اب تک 2 لاکھ 68 ہزار سے 2 لاکھ 95 ہزار افراد عراق میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

جزیرہ روڈ کی ایوی لیگ یونیورسٹی کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ جنگ کے متبادل موجود تھے، لیکن نیو یارک حملے یا عراق کے بارے میں بات چیت کے بعد ان پر شاید ہی غور کیا گیا۔

رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تباہ حال انفرا اسٹرکچر اور غذائی قلت کی وجہ سے بھی 3 لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکا کی جانب سے کبھی بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کے کتنے فوجی و کانٹریکٹر زخمی حالت میں یا پھر بیماری کی حالت میں جنگ زدہ ممالک سے واپس آئے ہیں۔

اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان، افغانستان اور عراق میں جنگ کی وجہ سے ایک کروڑ سے زائد لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے یا انہیں نامساعد حالات میں نکل مکانی کرنی پڑی۔

امریکی حکومت کی جانب سے عراق اور افغانستان میں بحالی کے کاموں کے لیے ایک سو 70 ارب ڈالر کے فنڈز جاری کیے گئے جن کا مقصد انسانی فلاح اور سول سوسائٹی کی تعمیر تھا، تاہم ان کی اکثر رقم فراڈ اور کرپشن کا شکار ہوگئی۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>