آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف احتساب عدالت میں پیش

لاہور: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کو سخت سیکیورٹی میں اسلام آباد سے لاہور کی احتساب عدالت پہنچایا، جس کے بعد شہباز شریف کمرہ عدالت پہنچے اور اپنے وکلا سے مشاورت کی۔

احتساب عدالت کے جج نجم الحسن شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کر رہے ہیں جبکہ نیب کی جانب سے خصوصی پراسیکیوٹر وارث علی دلائل دے رہے ہیں۔

سماعت کے آغاز پر وکلاء کی جانب سے کمرہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، جس پر جج احتساب عدالت نے استفسار کیا کہ یہ وکیل کیوں آئے ہیں، کیا کہ شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کرنے آئے ہیں۔

اس دوران تفتیشی افسر نے اپنے دلائل دینا شروع کیے کہ رمضان شوگر ملز میں 21 مئی 2014 کو حکم دیا گیا کہ مل کے لئے ایک نالہ بنایا جائے۔

تاہم عدالت میں شور پر جج نے ریمارکس دیے کہ ایسے شور میں کیس نہیں سنا جاسکتا، بعد ازاں عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے روک دی۔

قبل ازیں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر اور اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ عدالت کی طرف آنے والے راستوں کو بھی بند کیا گیا تھا۔

راستوں کی بندش کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے احتساب عدالت جانے کی کوشش کی تھی، جس پر پولیس اور لیگی کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

پولیس کی جانب سے ہنگامہ آرائی روکنے کے لیے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا جبکہ کارکنان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا، تاہم انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں 6 اکتوبر کو انہیں احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں ان کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ پر انہیں نیب کے حوالے کیا تھا۔

16 اکتوبر کو 10 روزہ ریمانڈ ختم ہونے پر مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو دوبارہ عدالت پیش کیا گیا تھا، جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی۔

اس کے بعد 29 اکتوبر کو انہیں دوبارہ عدالت پیش کیا گیا جہاں 7 نومبر تک ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا جبکہ 3 روز کا راہداری ریمانڈ بھی دیا گیا۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے انہیں اسلام آباد لے جایا گیا، جہاں 31 اکتوبر کو پہلے ان کے راہداری ریمانڈ میں 6 نومبر توسیع کی گئی تھی، جسے بعد میں عدالت نے بڑھا کر 10 نومبر تک کردیا تھا۔

5 اکتوبر کوشہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب نے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈویلپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

نیب کے بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

یہ بھی یاد رہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا ہیں۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>