سری لنکا: صدر کا 5 جنوری کو ملک میں قبل ازوقت انتخابات کروانے کا اعلان

کولمبو: سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا نے قومی پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے 5 جنوری کواز وقت انتخابات کروانے کا اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ میتھری پالا سری سینا نے اچانک ایک حکم جاری کرتے ہوئے وزیراعظم ’رنیل وکراماسنگے‘ کو برطرف کردیا تھا اور ان کی جگہ سابق صدر ’مہندرا راجہ پکسے‘ کو تعینات کردیا تھا جن کا جھکاؤ چین کی طرف زیادہ ہے۔

نئے وزیراعظم کی تعیناتی کے بعد صدر نے پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کردیا تھا، رنیل وکراماسنگے کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ انہیں مذکورہ سیاسی صورتحال پر قانون ساز ادارے سے رجوع کرنے سے روکنے کی کوشش ہے۔

بعدازاں صدر میتھری پالا سری سینا نے 14 نومبر کو دوبارہ پارلیمنٹ کا قیام کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نے اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے سے انکار کردیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ وہ ہی وزیراعظم ہیں اور انہیں اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

صدر کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے رنیل وکراماسنگے کی پارٹی کے ایک رکنِ اسمبلی ہرشا ڈسلوا کا کہنا تھا کہ یہ آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس حوالے سے غیر جانبدار قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ صرف اس صورت میں تحلیل کی جاسکتی ہے جب دو تہائی اراکینِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہو یا اگست 2015 میں ہونے والے انتخابات کو ساڑھے 4 برس کا عرصہ گزرنے کے بعد ریفرنڈم کروایا جائے ۔

تاہم ابھی فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ صدر کس قانون کے تحت پارلیمنٹ تحلیل کرسکتے ہیں البتہ ان کے قانونی مشیروں کا کہنا ہے کہ ان کے پا س ایسا کرنے کے اختیارات موجود ہیں۔

وزیراعظم کو برطرف کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ وہ مقامی لوگوں پر غیر ملکیوں کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ملک میں انتہاپسند آزاد خیال سیاست متعارف کروا رہے تھے جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹا یا۔

خیال رہے کہ رنیل وکراماسنگے کو جس وقت برطرف کیا گیا تھا اس وقت وہ اپنے سرکاری دورے پر تھے تاہم وہ اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس کولمبو آگئے۔

معزول وزیرِ اعظم رنیل وکراماسنگے نے کولمبو پہنچ کر ایک پریس کانفرنس کی تھی جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کارو جیاسوریا سے درخواست کی کہ وہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلوائیں اور اس سیاسی بحران کو حل کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ میں ان کے پاس اکثریت ہے، اس معاملے کا حل پارلیمنٹ میں ہی نکالا جانا چاہیے‘۔

سابق سری لنکن وزیراعظم کی برطرفی کے بعد ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>