سوات: ٹیکسی ڈرائیور کی بیٹی نے مضمون نویسی کا عالمی مقابلہ جیت لیا

جنگ زدہ سوات سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور کی بیٹی نے جاپان میں منعقدہ مضمون نویسی کے عالمی مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے پاکستان کے لیے ایک اور اعزاز حاصل کرلیا۔ مقابلے میں 162 ممالک سے 22 ہزار افراد نے حصہ لیا۔

جاپان کی تنظیم گوئی پیس فاؤنڈیشن نے ’’جو تبدیلی میں لانا چاہتی ہوں‘‘ کے نام سے مضمون نویسی کے مقابلے کا انعقاد کیا جس میں دنیا بھر کے 162 ممالک سے 21705 طلبہ نے حصہ لیا۔

سوات کی طالبہ صنم بخاری نے مضمون لکھ کر ارسال کیا جس نے تیسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ صنم بخاری نے ’’میں اپنی زندگی جینا چاہتی ہوں‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے اپنے مضمون میں معاشرے میں خواتین کے کردار پر بات کی ہے۔

عالمی فورم پر ملک کا نام روشن کرنے والی صنم بخاری سوات کے مرکزی شہر منگورہ کے نواحی علاقہ قمبر کی رہائشی ہیں اور گورنمنٹ افضل خان لالہ کالج مٹہ سے اسلامیات میں گریجویشن کر رہی ہیں جبکہ ان کے والد جابر بخاری ٹیکسی چلاکر گھر کا نظام چلانے کے ساتھ ہی اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم بھی دلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوات میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے بچوں کی مشترکہ درسگاہ

سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے صنم بخاری نے کہا کہ 162 ممالک کے 21 ہزار سے زائد طلبہ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

پاکستان کے بعض پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ صنم بخاری کو بھی اس بات کا احساس ہے اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو بوجھ سمجھا جاتا ہے لیکن میں نے یہ کوشش کی ہے کہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں۔ اگر انہیں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہیں بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کریں گی۔

صنم بخاری مزید پڑھنا چاہتی ہیں اور مستقبل میں پروفیسر بن کر قوم کے حقیقی معمار تیار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوات کی پہاڑی پر 4 ہزار سال پرانی تہذیب کے نقوش

تنگدستی اور غربت کے باجود اپنا پیٹ کاٹ کر بچی کو تعلیم دلانے والے بات جابر بخاری کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کے اس اعزاز پر بہت زیادہ خوش ہیں اور دوسرے والدین کو بھی پیغام دیتے ہیں کہ بچیوں کو زیور تعلیم سے آراسہ کریں اور ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔

جابر بخاری نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ سرکاری سطح پر ایسی بچیوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ہماری بیٹیاں مزید اعتماد کے ساتھ ملک و قوم کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔

نوٹ: صنم بخاری کا مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>