سندھ میں پلاسٹک بیگس پر پابندی لگانے کا فیصلہ

کراچی: سندھ کابینہ نے صوبے میں پولی تھین اور پلاسٹک بیگس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کا آغاز سکھر سے کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبے اہم مسائل زیرِ بحث آئے۔

اجلاس کے دوران صوبے میں پلاسٹک بیگ کے استعمال، اعلیٰ سرکاری عہدیداران کے لیے بلٹ پروف گاڑی، اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے بورڈ کی منظوری پر بھی بات چیت کی گئی۔

سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں پولی تھین اور پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی جو مرحلہ وار پورے صوبے میں لگائی جائے گی۔

پابندی کا اطلاق صوبے میں سب سے پہلے سکھر شہر سے کیا جائے گا جو آئندہ تین ماہ میں عائد کی جائے گی۔

صوبائی وزیرِ ماحولیات کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے اطلاق سے قبل پولی تھین اور پلاسٹ بیگ بنانے والوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جو بیگ اوکسو ۔ بائیو ڈی گریڈایبل نہیں ہوں گے انہیں یہاں تیار کرنے یا انہیں در آمد کروانے پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں صوبے کے ماحول کو بہتر بنانا ہے اسی لیے یہاں ایسے پلاسٹک بیگ استعمال کیے جائیں جو اوکسو۔بائیو ڈی گریڈایبل ہوں۔

سکھر کے بعد اس پابندی کو حیدر آباد اور پھر کراچی میں نافذ کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران کابینہ نے سندھ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے بورڈ کی منظوری بھی دے دی جس کے سیکریٹری کے انتخاب کا اختیار سوچل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو دیا گیا ہے۔

کابینہ اجلاس کے دوران صوبے کے اعلیٰ سرکاری عہدیداران کے لیے بلٹ پروف گاڑی کے استعمال سے متعلق بات چیت کی گئی۔

اس دوران کابینہ نے گورنر، وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس، چیف سیکریٹری، وزیرِ داخلہ، آئی جی پولیس اور 2 ایڈیشنل آئی جیز کو بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔

اگر کسی منسٹر یا افسر کو تھریٹ ہوگا تو کابینہ کی منظوری سے اسکو بلٹ پروف گاڑی دی جائی گی۔

سندھ کابینہ نے آئندہ تین سال کے لیے صوبے میں نئی گاڑی خریدنے پر پابندی پر عائد کردی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وہ ایسی پالیسی بنانا چاہتے ہیں جس کی مدد سے 17 گریڈ کو پہنچنے والے سرکاری افسر کو گاڑی خرید کر دی جائے جس کی اقساط افسر خود ادا کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اقساط مکمل ہونے پر سرکاری افسر گاڑی کا مالک بن جائے گا جبکہ اس کی منٹیننس وہ خود کرے گا۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>