ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار بغاوت پر اتر آئے اہم راز بتانے لگے

متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے لوگ عامر خان، کنور نوید اور دیگر اپنے اثاثے کارکنان کے سامنے ظاہر کردیں ورنہ بہت جلد میں ان سے پردہ اٹھاؤں گا۔

کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی چند قبضہ گیروں، جاگیرداروں اور لٹیروں کی وجہ سے کارکنوں میں اپنا اعتماد کھوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں انٹرا پارٹی انتخابات ہونے چاہئیں اور اگر کچھ بہتر لوگ آگے آنا چاہتے ہیں تو انہیں ان کا یہ جمہوری حق دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو بحران سے نکالنے کے حل پیش کردیے ہیں لیکن اگر رابطہ کمیٹی یا پارٹی پر کچھ لوگوں کا قبضہ ہے تو وہ من مانے فیصلے کر رہے ہیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کارکنوں کی بڑی تعداد سمجھ رہی ہے کہ من مانے فیصلوں سے تنظیم کو نقصان ہورہا، تنظیم کے نظریے اور منشور پر سمجھوتہ ہورہا ہے۔

سابق ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ مجھے تنظیم کی بنیادی رکنیت سے خارج کرنے کا فیصلہ میں نے اور ہزاروں کارکنوں نے بھی مسترد کردیا اور یہ اناپرستی جو چند اناگیر جو کر رہے ہیں کارکنان انہیں مسترد کرتے ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہم سیاسی و جمہوری طریقے سے پارٹی چلانا چاہتے ہیں جبکہ وہ لوگوں کو ڈرا کر ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر پارٹی چلانا چاہتے ہیں، لہٰذا یہ فیصلہ ہو کہ پارٹی کس طرح چلائی جائے گی۔

سابق کنوینر کا کہنا تھا کہ میں، عامر خان اور کنور نوید خود کو کارکنان کی عدالت میں پیش کریں اور 1986 سے لے کر آج تک جو ہم نے بنایا، جو ہمارے اثاثے ہیں، جو ہمارے بینک اکاؤنٹس ہیں وہ ہم کارکنوں کی اسمبلی، عدالت اور بڑے اجلاس میں پیش کردیں اور اگر یہ نہیں رکھیں گے تو چند دنوں بعد میں اس سب کے اثاثوں سے پردہ اٹھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب بتائیں کہ 1986 میں آپ کیا تھے اور یہ اثاثے اور جائیدادیں آپ نے کس طرح بنائیں کیونکہ اب کارکنوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما محفوظ یار خان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار نے پارٹی کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور وہ تیسری مرتبہ پارٹی کو تباہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام انتخابت کے دوران فاروق ستار پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کی گود میں جا کر بیٹھ گئے تھے اور ان کا کردار سب کے سامنے ہے، یہ کہنا کہ 22 اگست کے بعد انہوں نے پارٹی کو سنبھالا ہے تو یہ غلط ہے، پارٹی کو انہوں نے سنبھالا تھا جو اس کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔

محفوظ یار خان کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کو نظریاتی گروپ کے بجائے ضروریاتی گروپ بنائیں، آپ کی بہت ضرورتیں ہیں، آپ چندہ لیں اور کھا جائیں کیونکہ یہی آپ کا منشور ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فاروق ستار کے خلاف میرے پاس ثبوت ہیں، ایک آدمی جس کا ظاہری ذریعہ معاش نہ ہو اس کے بچے امریکا میں کیسے پڑ سکتے ہیں اور وہ کیسے دبئی میں اپنی بیٹی کی شادی کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ شب متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے تنظیمی نظم و ضبط اور آئین کی سنگین خلاف ورزیوں، تنظیم میں گروہ بندی اور دیگر سنگین تنظیمی خلاف ورزیوں پر ڈاکٹر فاروق ستار کو تنظیم کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیا تھا۔

رابطہ کمیٹی نے تمام کارکنان کو ہدایت کی تھی کہ وہ آج کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار سے کسی قسم کا میل جول نہ رکھیں، بصورت دیگر ایسا کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

بعد ازاں فاروق ستار نے کہا تھا کہ 'میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ آج میری ایم کیو ایم سے 39 سالہ رفاقت کو چند ٹھیکداروں نے ختم کردیا، طویل رفاقت کو آمروں، قبضہ گیروں نے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھایا جن میں اتنی اخلاقی جرات بھی نہیں تھی کہ باقاعدہ پریس کانفرنس میں اعلان کرتے۔'

انہوں نے کہا تھا کہ 'بہادرآباد میں قبضہ کرکے بیٹھے ہوئے عامر خان، کنور نوید، فیصل سبزواری ، وسیم اختر اور خالد مقبول صدیقی میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ میری پارٹی رکنیت ختم کرنے کی وجوہات بتاتے۔'

اگرچہ ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان اختلافات کی بات کی جائے تو یہ رواں سال 5 فروری کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب فاروق ستار کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے کامران ٹیسوری کا نام سامنے آیا تھا، جس کی رابطہ کمیٹی نے مخالفت کی تھی۔

اس کے بعد رابطہ کمیٹی اور فاروق ستار کے درمیان کئی مرتبہ مذاکرات کی کوشش کی گئی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئی اور ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور 6 دن تک جاری رہنے والے اس تنازع کے بعد رابطہ کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے فاروق ستار کو کنوینئر کے عہدے سے ہٹا کر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو نیا کنوینئر مقرر کردیا تھا۔

12 فروری کو ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو باضابطہ آگاہ کردیا تھا کہ ڈاکٹر خالد مقبول کو پارٹی کا نیا سربراہ منتخب کرلیا گیا ہے۔

بعد ازاں 18 فروری کو ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار گروپ کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں کارکنان کی رائے سے فاروق ستار ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر منتخب ہوئے تھے۔

تاہم بہادر آباد گروپ کی جانب سے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر ماننے سے انکار کردیا تھا۔

اس کے بعد یہ معاملہ پہلے الیکشن کمیشن پھر اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا تھا، جہاں عدالت نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کنوینر برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد معاملات کچھ بہتر ہوئے تھے اور دونوں گروپوں نے انتخابات میں ایک ساتھ حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان شہر قائد سے ماضی کی طرح کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی۔

بعد ازاں ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے جس سے متعلق وہ اپنے قریبی دوستوں سے مشورہ کر رہے ہیں۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>