پابندی کے باوجود سائبرین پرندوں کا شکار جاری

سائبریا کی یخ بستہ ہواوں سے بچ کر بڑی تعداد میں ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں کا رخ کرنے والے پرندوں کو غیر قانونی شکار کی آڑ میں مار دیا جاتا ہے۔

شکاریوں کی جانب سے ان پرندوں کو بندوقوں اور جال کے ذریعے پکڑا جاتا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اکثر شکاری ان مہمان پرندوں کو پکڑنے کیلئے پرندوں کی آوازوں پر مشتمل ریکارڈڈ آوازیں بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان ریکارڈ کی گئی آوازوں کو سن کر پرندوں کو حقیقت کا گماں ہوتا ہے اور وہ ان آوازوں پر جھیل کنارے بچھائے بڑی تعداد میں جال میں پھنس جاتے ہیں۔

ان پکڑے گئے مہمان پرندوں کے پروں کو شکاری کلپ سے باندھ کر مارکیٹ میں فروخت کیلئے لے کر جاتے ہیں، جہاں فی پرندہ 300 سے 1000 روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مترادف ان پرندوں کی مختصر کہانی یہ ہوتی ہے کہ وہ سائبریا اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے سخت موسم سے بچ کر یہاں پناہ کیلئے آتے ہیں مگر بے رحم شکاریوں کے جال کا شکار بن جاتے ہیں۔

یہ پرندے کاغزستان، افغانستان کے رستے جسے گرین روٹ یا انڈس فلائی وے بھی کہا جاتا ہے، وہاں سے ہوتے ہوئے بدین، ٹھٹھہ اور سجاول سمیت سندھ کی دیگر ساحلی پٹیوں کا رخ کرتے ہیں۔

سندھ کی یہ ساحلی پٹیاں نہ صرف ان مہمان پرندوں کو بسرے کیلئے جگہ فراہم کرتی ہیں، بلکہ یہاں موجود وافر مقدار میں مچھلیاں ان کی خوراک کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔

ہر سال اس موسم میں تقریبا 0.9 ملین پرندے پاکستانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کی نسبت رواں سال یہ تعداد 8 فیصد کم ہوئی ہے۔

مہمان پرندوں کے غیر قانونی شکار پر سماء نے جب سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے نائب کنزرویٹر عدنان احمد سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ غیر قانونی شکار کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر محکمہ کی جانب سے ایکشن لیا گیا ہے۔

عدنان احمد نے محکمہ کی مجبوری اور شکایات کے ازالے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو کم افرادی قوت کا سامنا ہے، جس کے باعث تمام علاقوں میں فوری کارروائی یا ہر وقت نگرانی ممکن نہیں، جس کے باعث صرف کینجر اور ہلیجی جھیل ہی پر توجہ مرکوز رہتی ہے، سہولیات اور اسٹاف کی کمی کے باعث ملک کے تمام ایسے علاقوں کا ریکارڈ رکھنا ممکن نہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ان نایاب اور مہمان پرندوں کے شکار پر پابندی عائد ہے، یہ پرندے نہ صرف خوبصورتی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں بلکہ دیکھنے والوں کو ایک پر لطف منظر بھی فراہم کرتے ہیں۔ مخدوش ہوتے کئی پرندوں کی نسلوں کو ہم تحفظ فراہم کرکے نایاب ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>