بلوچستان میں نایاب نسل کے پرندوں کی نسل کشی جاری

بلوچستان میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی سائبریا کے مہمان پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ،مگر ان کی آمد کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں موجود شکاری ان نایاب نسل کے پرندوں کی نسل کشی میں لگ جاتے ہیں ۔

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں شکار کے نام پر نایاب پرندوں کی نسل کشی ہرسال کی طرح امسال بھی جاری ہے،سائبریا سے شدید سردی کی وجہ سے نایاب پرندے ہرسال نوشکی و چاغی کے راستے پاکستان کے گرم علاقوں کے لیے سفر کرتے ہیں مگر پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ان پرندوں کا سامنا شکار کھیلنے والے مقامی افراد اورعرب شیوخ سے ہوتا ہیں جو ان پرندوں کا سینکڑوں کی تعداد میں بے دریغ شکار کرکے انکی نسل کشی کا موجب بنتے ہیں۔

یہ مہمان پرندے سردی شروع ہونے سے پہلے سائبریا سے پاکستان کے گرم علاقوں اور سردی ختم ہوتے ہی پاکستان کے گرم علاقوں سے واپس سائبریا کے لیے سال میں دو مرتبہ سفر کرتے ہیں،مگر دوران سفر بہت کم پرندے ہی اپنی منزل مقصود تک پہنچ پاتے ہیں۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے گو کہ نایاب مہمان پرندوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے بلند بانگ دعوے تو کئے جاتے ہیں مگر حقیقت میں محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کی کارکردگی کسی طور بھی اطمینان بخش نہیں

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>