پشاور:امتحانات میں کامیابی کیلئے طلبہ آئس کا نشہ کرنے لگے

سیف ( فرضی نام) تھرڈ ائر کا طالب علم ہے۔ چہرہ مرجھایا ہوا اور آنکھوں کے گرد حلقےپڑگئے ہیں۔ جسم اس قدر کمزور ہے کہ لگتا ہے ہوا کے ساتھ اڑ جائیں گے۔ بات کرتے ہوئے زبان لڑ کھڑاتی ہے، بولتے بولتے اچانک خاموش ہوجاتے ہیں۔ یاد ہی نہیں رہتا کہ کیا بولنا تھا، لفظ بھول جاتے ہیں۔

چند ماہ قبل تک سیف مکمل صحت مند اور پرجوش طالبعلم تھا۔ پھر امتحانات کی تیاری کے دوران اس نے ’نیند بھگانے‘ اور ’تھکاوٹ سے نجات‘ کے لیے آئس کا نشہ کیا جہاں سے اسکی زندگی نے نیا رخ اختیار کرلیا۔

سیف اکیلے اس لت میں مبتلا نہیں بلکہ حالیہ برسوں کے دوران خیبر پختونخوا کے اسکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں آئس نامی نشے کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ نشہ کرنے والوں میں طلبہ کے علاوہ بھی ہرعمر اور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

آئس کے نشے میں دھت سیف نے لڑ کھڑائی ہوتی آواز میں بتایا کہ ’’امتحانات کی تیاری کے دوران زیادہ نیند اور تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی۔ ایک دوست نے نشہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نیند بھاگ جائے گی اور تھکاوٹ بھی محسوس نہیں گی‘‘۔

دوست کے مشورے پرخطرناک نشے کی جانب راغب ہونے والے سیف کو ابتدا میں یہ علم بھی نہیں تھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ سر جھکاتے ہوئے بولا’’پہلی مرتبہ نشہ کیا تو مجھے وقتی طور پر نیند اور تھکاوٹ سے نجات تو مل گئی مگر معلوم نہیں تھا کہ یہ کون سا نشہ ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ مجھے اس کی لت لگ گئی‘‘۔

پشاور پولیس کے مطابق یہ خطرناک نشہ اب بعض پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیز کے ہاسٹلوں میں بھی پہنچ چکا ہے جہاں اس کا استعمال کرنے والوں میں حیران کن طور پرطالبات بھی شامل ہیں۔

اس نشے سے متعلق تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق آئس ’میتھ ایمفٹامین‘ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر کرسٹل جیسی ایک سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ اس کے لیے عام طور پر بلب (انرجی سیور) کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے انجیکشن کے ذریعے بھی جسم میں اتارا جاتا ہے۔

نفسیاتی امراض اور منشیات کے ماہر ڈاکٹر خالد مفتی نے بتایا کہ آئس کا نشہ کرنے کے بعد انسان کی توانائی وقتی طور پردو گنی ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے۔ اس دوران انسان چاک وچوبند رہتا ہے مگر نشہ اترنے کے بعد زیادہ نیند اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

انسانی صحت پر اس کے تباہ کن اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا کہ آئس کا نشہ دماغ کے ساتھ ساتھ جوڑوں اور جسم کے دیگراعضاء کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ اس نشے کے عادی شخص کو معمولی بات پر غصہ آتا ہے اور اکثر وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔

بعض لوگ اسے چرس اور دیگر منشیات کے ساتھ ملاکر جسم میں اتارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس کو اگر دوسرے نشے کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے تو مضر اثرات دوگنا ہوجاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ جب نوجوانوں کے پاس آئس خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ اس کے لیے چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کی جانب راغب ہوجاتے ہیں۔

پشاور میں اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق 10 ہزار سے زائد افراد آئس کے نشے میں مبتلا ہیں جن میں طلبہ، ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین، یہاں تک کہ گھریلو عورتیں بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر خالد مفتی کے مطابق گھریلو خواتین تک یہ نشہ ان کے شوہر کی وجہ سے پہنچا۔

پشاور میں یہ نشہ کیسے پہنچا؟اس حوالے سے ایس ایس پی کینٹ وسیم ریاض نے بتایا کہ آئس کی بڑی مقدار افغانستان اور ایران سے اسمگل ہورہی ہے۔ آغازمیں اس کی قیمت بہت زیادہ ہوا کرتی تھی، اس لئے یہ صرف امیر لوگ ہی استعمال کر سکتے تھے۔ اب منشیات فروش آئس میں مختلف اقسام کی ادویات اورخطرناک کیمیکل ملاکر مقدار بڑھاتے ہیں اور پھر اسے کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔

آج سے تقریبا دو سال پہلے جب آئس پشاور پہنچا تو اس کا صرف ایک گرام 10 ہزار روپے میں ملتا تھا مگر اب یہ قیمت انتہائی کم ہوگئی ہے۔

ایس ایس پی کینٹ کے مطابق قیمت میں کمی کے باعث آئس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ باآسانی ہر شخص کی پہنچ میں آگیاجس کے باعث یہ نشہ گلی محلے سے لے کر تعلیمی اداروں تک پہنچ گیا ہے۔

آئس پر قابو پانے اور اس سلسلے میں قانون سازی کے لئے خیبر پختونخوا پولیس نے صوبائی حکومت کو تجاویز دی ہیں جن پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کے مطابق حکومت اس نشے کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>