شہروں کے ناموں کی تبدیلی ، بھارتی حکومت تنقید کی زد میں

بھارتی ریاست اترپردیش کے تاریخی شہر الہ باد اورفیض آباد کے نام تبدیل کرنے کے بعد اب آگرہ کا نام بھی تبدیل کرنے کا سوچاجا رہا ہے جس کے بعد حکومت تنقید کی زد میں آگئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سیاسی رہنماﺅں نے کہا کہ آگرہ کے کوئی معنی نہیں، اگر آپ کہیں بھی اس لفظ کے معنی تلاش کریں تو آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔آگرہ کانام تبدیل کر کے اگروال رکھ دینا چاہئے۔حکمران جماعت بی جے پی کے قانون داں جگن پرساد گرگ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہاں کئی جنگلات ہوا کرتے تھے اور یہاں اگروال کمیونٹی کے لاگ آکر بستے چلے گئے، چنانچہ شہر کا نام آگروال ہونا چاہئے۔ایک او ر فرمائش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مظفر نگر کا نام بھی تبدیل ہو کر لکشمی نگر رکھ دینا چاہئے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مطالبہ عوام کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی بھارت کی ثقافت واپس لانا چاہتی ہے جو کہ مسلم حکمرانوں نے جان بوجھ کر تبدیل کردی تھی، حکومت کے اس اقدام پر مختلف رد عمل دیکھنے میں آرہے ہیں۔ناقدین نے کہا کہ پہلے چند شہروں کے نام تبدیل کئے جا رہے تھے مگر اب لگتا ہے کہ عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر تمام شہروں کے ناموں کی تبدیلی کی جانب مبذول کرائی جا رہی ہے۔لکھنو سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن دیپک کبیر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس طرح کا ایجنڈا ہے، فیض آباد اور الہ باد کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے، یہ سرا سر سیاست او ر منافرت ہے ۔دوسری سیاسی پارٹی کے رہنما نے مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی یہ سب کر کے صرف اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کر رہی ہے۔ہر شہر کی اپنی تاریخی اہمیت ہے، بی جے پی وہ کر رہی ہے جس کا ملک کی ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنا وقت بے روز گاروں کو روز گار فراہم کرنے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے، ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے اور الیکشن سے قبل کئے گئے وعدے پورے کرنے میں صرف کرے۔رواں سال اگست میں ریاستی حکومت نے وفاق کو آگرہ، بریلی اور کانپور کے ہوائی اڈوں کے نام تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی جو کوحکومت نے جائز قرار دیا تھا ۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>