بلوچستان میں تاحال نادر و نایاب پرندوں کا شکار جاری

بلوچستان میں تاحال نادر و نایاب پرندوں کا بے دردی سے شکار جار ی ہے جس سے ان پرندوں کی نسل ختم ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔

ہفتے کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے میں پانچ افراد شکار کئے گئے نایاب پرندوں کو بوریوں میں ڈال کر کسی جگہ منتقل کررہے ہیں جبکہ ایک شخص انہیں گن کر بلند آواز میں بتاتا ہے کہ پرندوں کی تعداد 210 ہے۔

محکمہ جنگلا ت اور جنگلی حیات کے صوبائی ڈپٹی کنززویٹر نیاز کاکڑ نے وائس آف امر یکہ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی یہ ویڈیو دیکھی ہے ۔ یہ بے زبان پرندوں پر وحشیانہ سلو ک ہے۔ اس کے ذمہ داروں کے خلاف بھر پور کاروائی کےلئے متعلقہ ضلع کے حکام کو کہا گیا ہے۔

بقول اُن کے’ ہم پور ی کوشش کر رہے ہیں کہ اس جگہ تک پہنچ سکیں اور انہیںگرفتار کر لیں کیونکہ ویڈیو میں موجود یہ افراد شکل و صورت سے مقامی لگتے ہیںجبکہ یہ علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب کا لگتا ہے۔اگر یہ پرندے پاکستانی حدود میں شکار کئے گئے ہیں تو حکومت بھر پور کارروائی کرے گی۔

اس سال بلوچستان میں خشک سالی ہے اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے یہ پر ندے بلوچستان کے علاقوں سے بہت کم تعداد میں گزریں گے۔ان پر ندوں کا شکار اور قیمت اُس وقت بڑھ جاتی ہے جب وفاقی حکومت عر ب شیوخ کو ان کے شکار کےلئے لائسنس یا این او سی جاری کر تی ہے ۔ مقامی لوگ ان کا شکار کرتے ہیںورنہ مقامی لوگوں کےلئے ان کی کو ئی قیمت نہیں ہے۔

اس سال وفاقی حکومت نے سائبیر یا سے آنے والے پرندوں کے شکار پر پابندی لگائی ہوئی ہے اور کسی کو پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔

بلوچستان میں رواں سال فروری میں حکام نے غیر قانونی طور پر شکار کرنے والے دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ پرندے متحدہ عر ب امارات سے تلور اور دیگر قیمتی پرندوں کے شکار کےلئے بلوچستان لائے جارہے تھے۔

گزشتہ سال بھی خلیجی ممالک سے لائے جانے والے سات قیمتی پرندے نوشکی کے قریب تحویل میں لے کر چار افراد کو حراست میں لیا گیا تھا لیکن بعد میں عر ب شیخ کی طرف سے قانونی کاغذات فراہم کرنے کے بعد پرندوں اور انہیں لانے والوں کو معاف کردی تھا۔

لوچستان کی سابق حکومت نے 5 201 میں جنگلات اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر پابندی کا قانون بنایا تھا جس کے بعد سے حکام لاکھوں روپے کا جر مانہ وصول کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود قیمتی پرندوں اور جانوروں کا شکار جاری ہے ۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>