آسٹریلیا: چاقو بردار حملہ آور داعش سے ’متاثر‘ تھا، پولیس

میلبورن میں چاقو بردار حملے کے ملزم سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور دہشت گرد تنظیم 'داعش' سے متاثر تھا لیکن اس کا براہ راست تنظیم سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔

30 سالہ حسن خالد شیر علی کا پاسپورٹ 2015 میں اس وقت منسوخ کیا گیا تھا جب حکام کو اس کے شام جانے کے منصوبے کی اطلاع ملی تھی۔

آسٹریلیا کے فیڈرل پولیس کمشنر ایان میک کارنے نے صحافیوں کو بتایا کہ وکٹورین جوائنٹ کاؤنٹر ٹیرارزم ٹیم حملہ آور سے واقف تھی، لیکن اس پر کبھی نظر نہیں رکھی گئی۔

سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے بتایا تھا کہ داعش نے اپنے میڈیا ونگ 'عماق' کے ذریعے میلبورن میں چاقو بردار حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

ایان میک کارنے کا کہنا تھا کہ حملہ آور داعش سے صرف متاثر تھا اور اس کا براہ راست اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ تحقیقات میں ان بنیادی چیزوں کو مدنظر رکھا جائے گا کہ کیسے، کہاں، کیوں اور کب وہ انتہا پسندی کی طرف آیا اور اس نے یہ اقدام اٹھایا‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں چاقو بردار شخص نے حملہ کرکے ایک شخص کو ہلاک جبکہ 2 کو زخمی کردیا تھا۔

یہ خوفناک حملہ چند منٹوں میں ہی اس وقت انجام کو پہنچا تھا جب پولیس نے حملہ آور کو روکنے کے لیے اس کے سینے میں فائر کیا تھا، جس سے وہ شدید زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔

حملے سے متعلق وکٹوریہ پولیس چیف کمشنر گراہم ایشٹن نے کہا تھا کہ ’ہم اس حملے کو دہشت گردی کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں‘۔

گراہم ایشٹن نے واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا لیکن حکام کو ان سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ جب انٹیلی جنس سروس حملہ آور کو پہچانتی تھی تو وہ حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔

پولیس نے بتایا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دیگر دو زخمیوں کی سرجری ہوئی اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

حملے میں ہلاک ہونے والے کی شناخت میلبورن کے ایک معروف اطالوی ریسٹورنٹ کے مشترکہ مالک سستو مالاس پنا کے طور پر ہوئی تھی۔

وکٹوریہ کے اسٹیٹ پریمیئر ڈینیئل اینڈریوز نے اس حملے کو 'شیطانی' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ شہر اس طرح کے حملوں کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>