اردن میں سیلاب سے 11 افراد جاں بحق، 4 ہزار سیاح متاثر

اردن میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے 11 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 4 ہزار سیاح بھی متاثر ہوئے جنہیں فوری طور پر قدیم صحرائی شہر البترا سے بے دخل ہونا پڑا۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطا بق اردن کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان عیاد عمرو نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امدادی ٹیمیں تاریخی پہاڑی قصبے مدابا کے قریبی وادیوں میں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امدادی ٹیمیں ایک روز قبل سیلاب کے باعث لاپتہ ہونے والی 2 لڑکیوں کو تلاش کر رہی ہیں۔

دارالحکومت عمان کے جنوبی مغربی علاقے بھی بارش سے متاثر ہوئے جہاں سیلاب سے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

اردن میں سیلاب سے ہونے والی دیگر ہلاکتوں میں ڈیزرٹ ہائی وے پر الضبعہ کے قریب 3 افراد جنوبی شہر معان میں ایک شہری جاں بحق ہوا۔

سرکاری ترجمان جمانا غنیمت کا کہنا تھا کہ ہائی وے دونوں اطراف سے منقطع ہے۔

شہری دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اردنی فوج کے ہیلی کاپٹر اور گاڑیوں کو امدادی کاموں کے لیے روانہ کردیا گیا ہے جبکہ جاں بحق افراد میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔

سرکاری ٹی وی کا کہنا تھا کہ البترا شہر اور قریبی وادی موسیٰ کے صحرا میں پانی کی سطح 4 میٹر تک اوپر آچکی ہے۔

ٹی وی سے نشر ہونے والی فوٹیجز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خوفزدہ سیاح پناہ کی تلاش میں سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہیں۔

حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ اب تک 3 ہزار 762 سیاحوں کو محفوظ جگہ منتقل کیا گیا ہے۔

یونیسکو کی جانب سے 1985 میں عالمی ورثہ قرار دیے جانے کے بعد البترا شہر میں سالانہ ہزاروں سیاح آتے ہیں جہاں تراشیدہ چٹانوں کا خزانہ، مندر اورمقبرے موجود ہیں۔

البترا شہر کی عمارتوں کو انڈیانا جونز اور لاسٹ کروسیڈ سمیت ہالی ووڈ کی کئی شہرہ آفاق فلموں کے لیے سیٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ اردن میں 25 اکتوبر کو آنے والے سیلاب سے 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے اکثر اسکول کے بچے تھے جو سیاحتی دورے پر تھے۔

گزشتہ ہفتے اردن کے وزیر تعلیم اور وزیر سیاحت نے ان سیلابوں کے حوالے سے حکومتی موقف واضح کرنے میں ناکامی پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

وزارت تعلیم نے تازہ سیلاب کے بعد شدید بارشوں کی پیش گوئی پر اسکولوں کو قومی سطح پر بند رکھنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>