اسٹیٹ بینک کو سیلز ٹیکس کی مد میں 8 ارب روپے ریفنڈ کرنے کی ہدایت

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سیلز ٹیکس ریفنڈ کی رقم 8 ارب 74 کروڑ روپے برآمدکندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔

ایف بی آر کے مطابق ریفنڈ کی ادائیگیاں 5 برآمدی شعبوں، ٹیکسٹائل، قالین سازی اور لیدر سازی، آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان پر کی جارہی ہیں۔

علاوہ ازیں ادائیگیوں سے مجموعی طور پر 739 برآمدکندگان فائدہ اٹھائیں گے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ریفنڈ کی ادائیگی 4 ہزار 117 ریفنڈ پے منٹ آرڈز کی مد میں 8 نومبر 2018 تک ہو گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ریفنڈ کی ادائیگی متعلقہ بینک اکاؤنٹس میں 12 نومبر تک منتقل کر دے گا۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ مذکورہ پانچ شعبہ جات سے جن برآمدکندگان نے اسٹیٹ بینک کو اپنے آئی بی اے این فارمیٹ بینک اکاؤنٹ تفصیلات فراہم کی ہیں ان کو ادائیگی ہو گی۔

ایف بی آر کے مطابق اگر برآمدکندگان نے آئی بی اے این فارمیٹ پر بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کی تو ایف بی آر کے ویب پورٹل یا آئی ڈی پر دے سکتے ہی۔

واضح رہے کہ 13مئی 2018 کو سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی مدت پوری ہونے سے قبل برآمداتی تجارت سے متعلقہ 100 ارب روپے کے وصول کردہ ٹیکس کو ریفنڈ کرے گی۔

ایف پی سی سی آئی کی برانڈ آف دی ایئر کی تقریبات اور کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن (کیپٹا) سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کاروباری برادری کو بتایا تھا کہ حکومت 14 مئی کو ٹیکس ایمنسٹی بل قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کرنے جارہی ہے۔

کاروباری حضرات نے اصرار کیا کہ اگر حکومت انہیں ریفنڈ کی مد میں رقم ادا کرنے میں ناکام ہوگئی تو برآمد کنندگان کو بھاری نقصان ہوگا کیونکہ ملک میں پہلے ہی برامدات کے چھوٹے اور درمیانی کاروبار بند ہوتے جارہے ہیں۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>