خاشقجی کے قتل سے متعلق تونصل خانے کے اندرکی آڈیو ریکارڈنگز مل گئیں

ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، امریکا، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے حکام نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق آڈیو ریکارڈنگز سن لی ہیں۔

رجب طیب اردوان کا یہ بیان عوامی سطح پر پہلی بار اس بات کی تصدیق ہے کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کے قتل سے متعلق ریکارڈنگز موجود ہیں، جہاں وہ اپنی منگیر سے شادی کے لیے دستاویزات لینے گئے تھے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ 'ان ممالک کے حکام نے ریکارڈنگز میں تمام باتیں سنی ہیں اور وہ سب جانتے ہیں۔'

انہوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ تحقیقات میں ترکی سے تعاون کرکے معاملے کے بعد خود پر لگنے والا 'داغ' مٹائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے لیے بھیجی جانے والی 15 رکنی ٹیم جانتی ہے کہ قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور صحافی کی لاش کی باقیات کہاں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سعودی قونصل جنرل محمد العُتیبی کی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑوں کو تیزاب میں تحلیل کیا گیا تھا‘۔

ترک تفتیش کاروں نے جمال خاشقجی کے قتل کے دو ہفتے بعد قونصل جنرل کی رہائش گاہ کی تلاشی لی تھی۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ ان دو ہفتوں کے دوران جمال خاشقجی کی لاش کا نام و نشان مٹانے کے لیے تیزاب کا استعمال کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا ۔

بعد ازاں گزشتہ روز سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے 'قربانی کا کوئی بکرا' ڈھونڈ ہی لیں گے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎

?>