پنجاب میں پھوٹ پر گئی وزیراعلی پنجاب نے وزیراعظم عمران خاں سے مدد مانگ لی

تحریک انصاف کے انتخابی وعدے اور اعلانات حکومت میں آنے پر مشکلات کا سبب بن گئے، جنوبی پنجاب صوبے کی تشکیل کا نعرہ گلے کی ہڈی بن کررہ گیا ، جنوبی پنجاب محاذ کے رہنما عوامی دباؤ کے تحت حکومت سے علیحدگی کاسوچنے لگے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے عمران خاں کی قیادت میں الیکشن سے قبل اور انتخابی مہم کے دوران قوم سے بے شمار وعدے کئے

جن میں سے کسی ایک پر بھی تاحال عملی قدم نہ اٹھایا جا سکا،وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے وعدے پرمقامی لوگوں کی توقعات حد سے بڑھ گئیں جنہیں اس وقت شدید ٹھیس پہنچی جب حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں صوبے کی تشکیل اور پچھلی حکومت کے سب سیکرٹریٹ کیلئے مختص رقم کو آئندہ مالی سال پر ڈال دیا اور رہی سہی کسر پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور کارکنوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام نے نکال دی۔ جنوبی پنجاب محاذ جو الیکشن سے چند روز پہلے نئے صوبہ کے قیام کی شرط پر پی ٹی آئی میں شامل ہوا تھا جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب میں واضع اکثریت حاصل ہوئی،تحریک انصاف میں شامل ہو کر جیتنے والے جنوبی محاذ پنجاب کے رہنماؤں کا موجودہ صورتحال کے سبب اپنے علاقہ انتخاب میں جان مشکل ہو گیا۔

اس صورتحال کے پیش نظرموجودہ حکومت نے سابق حکومت کے جنوبی پنجاب صوبہ سب سیکرٹریٹ کے گڑھے مردے میں جان ڈالنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ بھی حکومت کے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے، ملتان اور ڈیرہ غازی خاں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی ملتان سیکرٹریٹ جبکہ بہاولپور کے ارکان اسمبلی بہاولپور میں سیکرٹریٹ قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق باضابط طور پر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی کھلم کھلا مخالفت کر چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب محاذ کے رہنما وزیراعلی کو باضابط طور پر آگاہ کر چکے ہیں کہ اگر صوبہ کے قیام کے حوالے سے کوئی مثبت قدم نہ اٹھایا گیا تو وہ علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس صورت حال کے پیش نظر وزیراعلی پنجاب نے معاملات کے حل کیلئے وزیراعظم عمران خاں سے مدد مانگ لی ۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے بھی اس ضمن میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے سب سیکرٹریٹ کے نام سے نکالا جانے والا درمیانی راستہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔

 

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎