گاجر کا حلوہ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

موسم سرما میں پاکستان کے مختلف مقامات میں جو سوغات ہر گھر میں سب کو پسند ہوتی ہے وہ گاجر کا حلوہ ہے۔

انتہائی لذیذ ہونے کے باعث یہ لگ بھگ موسم سرما کی روایت بن چکی ہے۔

ویسے ہوسکتا ہے کہ لوگ گاجر کا حلوہ میٹھا ہونے کے باعث اسے صحت کے لیے نقصان دہ سمجھیں مگر سردیوں میں خود کو صحت مند رکھنے کے لیے اس سوغات کو کھانا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس حلوے کا سب سے اہم جز گاجر ہے، گاجریں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے اور فائبر سے بھرپور سبزی ہے، گاجروں میں موجود وٹامن اے بینائی کو بہتر کرتا ہے اور حلوے کی شکل میں اسے کھانا بھی یہ فائدہ پہنچاسکتا ہے۔

گاجر کے حلوے میں اکثر افراد دودھ کو بھی شامل کرتے ہیں اور اس وجہ سے یہ سوغات کیلشیئم سے بھرپور ہوجاتی ہے جبکہ اس میں شامل کیے جانے والے خشک میوہ جات کی بدولت پروٹین اور اینٹی آکسائیڈنٹس بھی جسم کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس حلوے میں شامل دودھ انسولین کے صحت مند سطح کو سپورٹ کرتا ہے جس سے خلیات کے لیے بلڈگلوکوز کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ میٹھے کی خواہش کم ہوتی ہے۔

گاجر کے حلوے میں صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ بھی جسم کو ملتا ہے جو کہ سردیوں میں ہونے والے جسمانی درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم بہت زیادہ گھی شامل کرنے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ دیسی گھی کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح گاجر میں موجود وٹامن اے جسمانی مدافعتی نظام کو بھی بہتر کرکے مختلف انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور سبزی ہے جو کہ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور یو وی ریز سردیوں میں زیادہ متحرک ہوتی ہیں، تو گاجر کا حلوہ اس مسئلے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

بس یہ ذہن میں رکھیں کوئی بھی غذا اسی وقت صحت بخش ثابت ہوتی ہے جب اسے اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو گاجر کا حلوہ بہت زیادہ کھانا نقصان پہنچا سکتا ہے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎