ملکی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے چیف جسٹس نے بڑا قدم اٹھا لیا

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں بھرپور طریقے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔


سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے آبادی کنٹرول کرنے سے متعلق پالیسی کی منظوری دے دی۔

ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے صوبوں کو آبادی کنٹرول کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کا حکم دیا تھا، جس پر صوبوں نے آبادی کنٹرول کرنے کے لیے ٹاسک فورس بنا دی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 5 دسمبر کو سپریم کورٹ کے زیر اہتمام آبادی کنٹرول کرنے کے حوالے سے سمپوزیم ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں بھرپور طریقے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔

عدالت نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے سمپوزیم کی تجاویز طلب کر لیں۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ ملک میں آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، کیا ملک اس قابل ہے کہ ایک گھر میں 7 بچے پیدا ہوں، لوگ مرغیوں کے دڑبے میں بھی اضافی جگہ بناتے ہیں جبکہ ملک میں آبادی کی شرح میں اضافہ بم کی مانند ہے۔

خیال رہے کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کی جانب سے بڑھتی آبادی پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد 5 دسمبر کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہوگا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کانفرنس میں مہمان خصوصی ہوں گے جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کریں گے۔

دو ہفتے قبل ہی وفاق اور صوبوں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎