مہنگائی کی شرح کتنے فیصد مزید بڑھ جائے گی،اسٹیٹ بینک نے بتا دیا

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 6 فیصد سے مزید بڑھ جائے گی ۔ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح ساڑھے 6 سے ساڑھے 7 فیصد تک جاسکتی ہے۔ماہ نومبر کے اختتام پر روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح تک گرگیا اور روپے کے مقابلے تمام غیرملکی کرنسیاں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔


اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2018 سے اکتوبر 2018 کے دوران مہنگائی کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ چار ماہ میں مہنگائی کی شرح 5.9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔گذشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران شرح 3.5 فیصد تھی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کی شرح رواں مالی سال کے اختتام پر 6.5 سے 7.5 فیصد تک جاسکتی ہے جبکہ ہدف 6 فیصد تھا ۔

اکتوبر میں گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پرمہنگائی کی رفتار تیزہوئی اورسی این جی بھی مہنگی ہوئی۔پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت سیمنٹ اور سریے کی قیمت بڑھنے سے گھروں کی تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوگیا۔

روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح تک گرگیا جس سے اہم غیرملکی کرنسیوں کی قیمت بلند ترین سطح تک جا پہنچی ۔انٹربینک میں ڈالر 139 روپے 5 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،روپے کے مقابلے یورو 158 روپےاور برطانوی پاؤنڈ بھی 178 روپے کی بلند ترین سطح پر ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎