حکومت نے اپوزیشن سے مدد مانگ لی؟

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ کا معاملے پر وفاقی حکومت اپوزیشن جماعتوں سے نام لینے پر آمادہ ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،سینیٹر شبلی فراز،وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد،نعیم الحق اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری شریک ہوئے۔

اجلاس میں پی اے سی چیئرمین شپ کے معاملے پر غور کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ شہباز شریف کو کسی صورت نہیں دی جاسکتی۔

اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن سے مزید مذاکرات کئے جائیں اور اپنے نام کے ساتھ ان سے بھی عہدے کےلئے نام لیا جائے ۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارلیمانی ایتھکس کمیٹی کے قیام اور پارلیمانی سیکریٹریز کے تقرر کے معاملہ پر بھی غور کیا گیا اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی تنظیم نو کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ قائد حزب اختلاف کے پاس ہی رہی ہے تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے شہباز شریف کے نام پر اعتراض ہے۔

تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا بلی کو دودھ کی رکھوالی دینے کے مترادف ہوگا۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎