اعظم سواتی کی مشکلات کم نہ ہوسکی،عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے وکیل نے آئی جی اسلام آباد جان محمد تبادلہ کیس میں تحریری جواب جمع کرانے کے لیے عدالت عظمیٰ سے مہلت طلب کی تھی—۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی، جس پر عدالت نے وفاقی وزیر کو آج رات تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی اور ان کے وکیل عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ تو آپ نے دیکھ لی ہوگی؟

جس پر اعظم سواتی کے وکیل نے جواب دیا کہ جےآئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لے چکے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی۔

جس پر عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ آج رات تک جواب جمع کروا دیا جائے۔

جس کے بعد آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی آئندہ سماعت کل (5 دسمبر) تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اعظم سواتی تنازع کا پس منظر

یاد رہے کہ اعظم سواتی کے صاحبزادے کی جانب سے ان کے فارم ہاؤس کے قریب رہائش پذیر غریب پرور خاندان کے خلاف اندراج مقدمہ کے بعد صورتحال خراب ہوئی۔

وفاقی وزیر نے اس معاملے پر آئی جی اسلام آباد کو کئی مرتبہ فون کرنے کا اعتراف کیا، یہ جھگڑا ابھی درمیان میں ہی تھا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جس پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا۔

اعظم سواتی کے مس کنڈکٹ کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جس نے وفاقی وزیر کے پڑوسیوں ساتھ تنازع میں بطور وزیر ان کے مس کنڈکٹ کا تعین کرنا تھا، عدالت نے جے آئی ٹی کو 14 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ اعظم سواتی اور ان کے بچوں کے اثاثے اور ٹیکس معاملات دیکھنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎