چیف جسٹس نے نواز شریف کو بڑی پیشکش کردی

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکپتن اراضی کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے مکالمے کے دوران کہا ہے کہ میاں نواز شریف آپ خود منصف بن جائیں، انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں، آپ اپنے طور پر تحقیقات کرالیں۔


دو تین بار وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم رہنے والے کو کلیئر ہونا چاہیے۔

عدالت عظمیٰ نے پاکپتن ارضی کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3رکنی ینچ نے پاکپتن ارضی کیس کی سماعت کی، جس کے دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ میاں صاحب اس حوالے سے آپ کا کیا مؤقف ہے؟ جےآئی ٹی بنا دیتے ہیں جو اس معاملے کے حقائق معلوم کر لے گی، دو تین بار وزیراعلیٰ اور وزیر اعظم رہنے والے کو کلیئر ہونا چاہیے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ تحقیقات میں کوئی حرج نہیں، میرا جے آئی ٹی کا تجربہ اچھا نہیں، کسی اور سے انکوائری کرا لیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود منصف بن جائیں، انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں، آپ اپنے طور پر تحقیقات کرالیں۔

نواز شریف نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ نچلے لیول پر کوئی گڑبڑ ہوئی ہے، شاید سیکریٹری اوقاف نے اختیارات کے تحت 1971ء کے نوٹیفیکیشن کو ڈی نوٹیفائی کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری اوقاف کی ایسی کوئی پاورز نہیں ہیں، ایک ایسی چیز آگئی ہے جس کی تحقیق کی ضرورت ہے، تحقیق کا کوئی ایسا طریقہ بتا دیں جس پر آپ بھی متفق ہوں۔

نواز شریف نے کہا کہ 32 سال پرانا واقعہ ہے، میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہ کہ ہائی کورٹ نے بھی قرار دیا ہے کہ زمین محکمہ اوقاف کی ہے، آپ کو نوٹیفیکشن نہیں سمری منظور کرنی تھی، تاثر یہی ملے گا کہ آپ کی منظوری سےنوٹیفیکیشن جاری ہوا ۔

نواز شریف نے جواب دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی نوٹیفکیشن نہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا محکمہ اوقاف کے ساتھ فراڈ ہوا ہے؟

نواز شریف نے جواب دیا کہ نوٹیفکیشن کا نمبر غلط ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بڑی قیمتی زمین تھی۔

نواز شریف نے جواب دیا کہ اگر بنانا ہے تو جے آئی ٹی کے علاوہ کچھ اور بنائیں،جے آئی ٹی کا میرا تجربہ اچھا نہیں ہے۔

نواز شریف کی بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف سے کہا کہ تحقیقات کا طریقہ کار کیا یہ ہو تحریری طور پر عدالت کو بتا دیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ جے آئی ٹی پر تو میاں صاحب نے اعتراض کردیا ہے،پولیس، ایف آئی اے، نیب، اینٹی کرپشن، جے آئی ٹی، کس سے تفتیش کرائیں؟ اپنے وکلا سےمشاورت کرکے بتادیں کس ادارے سےتحقیقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میاں صاحب آپ سے ہلکے پھلکے انداز سے بھی بات کرلیتے ہیں،پولیس کا محکمہ تو زیادہ مؤثر نہیں ہو گا۔

نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا نوازشریف کی آئندہ پیشی پرآنے کی ضرورت ہے؟

چیف جسٹس نے نوازشریف کو آئندہ حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کے آنے کی ضرورت نہیں، وکیل آجائیں۔

جس پر نوازشریف نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ کی بڑی مہربانی ہے۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎