انوکھا بدلہ کیا جان بھوجھ کرآپﷺ کا ارادہ اونٹنی کو مارنے کا تھا؟

جب سورۂ ”نَصْر“نازل ہوئی تومکّی مَدَنی مصطفےٰصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:اےجبریل! میرے وصال کااعلان ہوچکا۔ جبریلِ امین نےعرض کی:آنےوالاپَل آپ کےلئےگزرےہوئےسےبہترہےاورعنقریب آپ کو آپ کا ربّ اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ محبوبِِ خدا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے حضرتِ بلال حبشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اَذان دینے کا حکم دیا، چنانچِہ انصار ومہاجرین مسجدِ نَبوِی میں جَمْع ہو گئے، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے انہیں نماز پڑھائی پھر منبر پر جلوہ فرما ہوئے اوراللہکریمکی حمد و ثنا کے بعد ایک ایسا خُطبہ دیا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے، ارشاد فرمایا:اے لوگو! میں تمہارے لئے کیسا نبی ہوں؟ عرض کی گئی: اللہ پاکآپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آپ اچّھے نبی ہیں، باپ کی طرح مہربان، ناصِح بھائی کی طرح شفیق، آپ نے پیغاماتِ خداوندی  کا حق ادا کیا اور اس کی وحی ہم تک پہنچا دی،  آپ نے ہمیں حکمت اور اچّھی نصیحت کے ذریعےاپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دی، اللہآپ کو اس سے بھی افضل جزا عطافرمائے جو کسی اُمّت کی طرف سے اللہ نےاس اُمّت کے نبی کو دی ہو۔ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اے گروہِ مسلمین! میں تمہیں  اللہکی قسم اور تم پر اپنےحق کا واسِطہ دے کر کہتا ہوں: میری طرف سے کسی پر کوئی ظلم  ہو گیا ہو تو کھڑا ہو جائے اور قِیامت میں بدلہ لینے کے بجائے مجھ سے یہیں بدلہ لے لے۔ ایک بھی کھڑا نہ ہوا، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے دوبارہ یہی قسم دی پھر بھی کوئی کھڑا نہ ہوا توتیسری بار قسم دیتے ہوئےاس بات کو دہرایاکہ میری طرف سے کسی پر کوئی ظلم ہوگیا ہو تو کھڑا ہوجائے اور قِیامت میں بدلہ لینے کے بجائے  مجھ سےیہیں بدلہ لے لے۔ چنانچہ عُکَاشَہ نامی ایک ضعیفُ العُمرصَحابی کھڑے ہوئے اور لوگوں کو ہٹاتے ہوئے آقا کریمعلیہ السَّلامکے سامنے جا پہنچے اور عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر آپ نے باربار قسم نہ دی ہوتی تو میری مجال ہی نہیں تھی کہ میں کسی چیز کے بدلے کے لئے آپ کے سامنےآتا۔ میں آپ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا اس میں اللہ کریم نے  اپنے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مدد کی اور ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جب ہم واپس آرہے تھے تو میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے برابر آگئی، میں اپنی اونٹنی سے اُتر کر آپ کے قریب ہوا تاکہ آپ کےقدم مُبارَک پر بوسہ دوں، مگر آپ نےچھڑی بُلند کی اور میرے پہلو پر ماری، میں نہیں جانتا کہ آپ نے ایسا جان بوجھ کر کیا یا آپ کا ارادہ اونٹنی کو مارنے کا تھا؟ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ پاک کے جلال سے پناہ میں لیتا ہوں کہ اللہکا رسول تمہیں جان بوجھ کر مارے، پھر فرمایا: اے بلال! فاطمہ کے گھر جاؤ اور وہی پتلی چھڑی لے آؤ۔ چنانچہ  حضرت سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہاپنے ہاتھ سَر پر رکھے مسجِد سے نکلے اور یہ کہتے جاتے:یہ اللہکے رسول ہیں جو خود اپنا قصاص دے رہے ہیں۔  حضرت سیّدَتُنا فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: اے رسولُاللہکی صاحبزادی! مجھے وہ پتلی چھڑی دے دیجئے۔ شہزادیِ کونین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا: بلال! نہ ہی آج یومِ عرفہ ہے اور نہ ہی کوئی غزوہ! پھر میرے باباجان چھڑی کا کیا کریں  گے؟عرض کی: کیا آپ کو معلوم نہیں آج آپ کے باباجان کیاکر رہے رہیں! بے شک حُضُور نبیِّ رَحْمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے دین پہنچا دیا ہے، دنیا کو چھوڑ رہے ہیں اور آج اپنی طرف سے بدلہ دے رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے بےقرار ہو کر فرمایا: اے بلال! آخِر ایسا کون ہے جس نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے بدلہ لینا گوارا کر لیا؟  اے بلال! اگر یہ بات ہے تو حسن اورحسین کو  کہو اس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور وہ ان سے بدلہ لے لے۔ حضرتِ بلال مسجِد پہنچے اور وہ چھڑی حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو پیش کر دی، آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  بلال سے لے کر عُکَاشَہ کے حوالے کر دی، یہ دیکھ  کر حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنہماآگے بڑھے اور کہا: اے عُکَاشَہ! لَو ہم تمہارے سامنے ہیں جو بدلہ لینا ہے ہم سے لے لومگر پیارے آقاسے بدلہ نہ لو۔ نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! ہٹ جاؤ، اے عُمَر! تم بھی ہٹ جاؤ یقیناً اللہ پاک تم دونوں کے مقام ومرتبے کو  خوب جانتا ہے۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے عکاشہ! میرے سامنے میری زندَگی میں تم کریم آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو یہ چھڑی مارو مجھے یہ ہرگز برداشت نہیں، یہ رہی میری پیٹھ اور یہ رہا میرا پیٹ  اپنے ہاتھ سے مجھے سو کوڑے مارلو اور مجھ سے انتِقام لے لو لیکن پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بدلہ نہ لینا،حُضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اےعلی! اپنی جگہ بیٹھ جاؤ بے شک اللہکریمتمہارے مرتبے اور نیّت کو خوب جانتا ہے۔  اتنے میں نوجوانانِ جنّت کے سردار، فاطمہ زہرا کے گلشن کے پھول حضرتِ سیِّدُناامام حسن و امام حسینرضی اللہ تعالٰی عنہما کھڑے ہوئے اور کہا: عکاشہ!کیاآپ نہیں جانتے ہم رسول ُاللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکےنواسے ہیں اورہم سے بدلہ لینا گویا آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سےبدلہ لینا ہےلہٰذا آپ ہم سےبدلہ لے لیں۔پیارےآقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےارشاد فرمایا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! بیٹھ جاؤ بے شک اللہپاکتمہارے  مقام کو خوب جانتا ہے۔ پھرعکاشہ سے فرمایا: اے عکاشہ! اگر تم چھڑی مارنا چاہتے ہو تو مارو۔حضرتِ عکاشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: جس وقت آپ نے مجھے مارا تھا  اس وقت میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا۔چنانچِہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اپنے مُبارَک پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا، یہ دیکھ کر مسلمانوں کی چیخیں نکل گئیں اور کہنے لگے: عکاشہ کو دیکھتے ہو یہ رسول ُاللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے مُبارَک پیٹ پر چھڑی مارے گا؟ جب حضرتِ عکاشہ نے مبارک پیٹ کی سفیدی کو دیکھا  تو فوراً حضورِ انور  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے چمٹ گئے اور پیٹ مبارک کا بوسہ  لیتے ہوئے عرض گزار ہوئے: میرے ماں باپ آپ پر قربان! بھلا کون ہے جو آپ سے بدلہ لینے کا سوچ سکے۔آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: چاہو تو بدلہ لے لو ، چاہو تو معاف کردو۔حضرتِ سیِّدُناعکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کی: میں نےآپ کومعاف کیایہ اُمّیدکرتے ہوئے کہاللہ کریم بَروزِقِیامت مجھےمعاف فرمائےگا۔رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنےارشادفرمایا:جوشخص  میرے جنّت کے رفیق کو دیکھنا چاہے وہ اس بوڑھے کو دیکھ لے۔ لوگ کھڑے ہوئے اور حضرتِ سیِّدُنا عکاشہرضی اللہ تعالٰی عنہکی پیشانی چوم کر یہ کہتے جاتے: تمہیں مبُارَک ہو! تمہیں مبارک ہو! تم  توبُلند دَرَجات اورحضورنبیِّ اکرمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی ہم نشینی کے شرف کوپہنچ گئے۔(حلیۃ الاولیاء,،ج4،ص67)

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎