پی ٹی آئی حکومت نے عوام سے کیا وعدہ پورا کردیا

اسلام آباد: ملک کے 3 گورنر ہاؤس اور مری میں حکومتی ریسٹ ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنے کے بعد اب انتہائی محفوظ اور وسیع ایوان صدر میں بھی شہری 8 دسمبر کو جاسکیں گے۔


تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ایوان صدر کو روزانہ کی بنیاد پر کھولا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ریاستی عمارتوں تک عوام کی رسائی کے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وعدے کی ایک کڑی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسی پالیسی کے تحت ملک کے گورنر ہاؤسز کو پہلے ہی عام لوگوں کے لیے کھولا جاچکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایوان صدر آنے والے لوگوں کے پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ اندر موجود چھوٹے زوو کے دورہ کر سکیں، اس کے ساتھ ساتھ سبزہ زار اور 5ویں منزل پر موجود تاریخی ہالز بھی دیکھ سکیں، جہاں وزرا اعظم سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی تقریب حلف برداری منعقد ہوتی ہے۔

ایوان صدر کی انتہائی محفوظ ریڈ زون میں موجودگی کے باعث آنے والے شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے طاہر خوشنود کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقینی طور پر پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ مشاورت سے ایک جامع منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت شہریوں کو جامع تلاشی کے بعد اندر آنے کی اجازت ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت اور پاکستان سیکریٹریٹ کے کابینہ بلاک کے درمیان شاہراہ دستور پر وسیع رقبے پر پھیلے ایوان صدر کو اس وقت ماضی میں سیاست کا مرکز سمجھا جاتا تھا جب طاقت ور صدور آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحٹ منتخب حکومت کو ختم اور قومی اسمبلی تحیل کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔

آئین کا آرٹیکل 58ٹو بی کو پہلی مرتبہ 1985 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے 8 ویں ترمیم کے ذریعے متعارف کرایا تھا اور اس متنازع شق کو 1988 سے چار مرتبہ سابق صدور جنرل ضیا الاحق، غلام اسحٰق خان اور سردار فاروق احمد خان لغاری کی جانب سے استعمال کیا گیا۔

تاہم سابق صدر آصف علی زرداری کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 2010 میں اس متنازع شق کو آئین سے ختم کردیا تھا۔



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎