ن لیگ کی سیالکوٹ سے بڑی وکٹ گرنے والی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز عثمان ڈار نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے تمام ثبوت قومی احتساب بیورو (نیب) کو فراہم کرنےکا دعویٰ کیا ہے۔

عثمان ڈار نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما کی تمام غیر ملکی سرمایہ کاری کا ریکارڈ نیب کے حوالے کردیا ہے جس میں خواجہ آصف اور ان کی اہلیہ کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں بے نامی ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور وفاقی وزیر خواجہ آصف کی غیر ملکی کمپنی میں خفیہ ملازمت اور تنخواہ کا خفیہ معاہدہ بھی نیب کے حوالے کردیا ہے۔

عثمان ڈار نے کہا کہ ’خواجہ آصف نے بطور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے دعویٰ کیا کہ ’ اقامہ اور غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کی آڑ میں منی لانڈرنگ کی گئی‘۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ’ نیب کو فراہم کردہ ثبوت خواجہ آصف کو ایکسپوز کرنے کے لیے کافی ہیں‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ نیب حکام کے ساتھ اس معاملے پر تحقیقات میں تعاون جاری رکھوں گا‘۔

نیب نے رواں برس میں عثمان ڈار کی درخواست پر خواجہ آصف کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

ستمبر میں عثمان ڈار نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 73 (سیالکوٹ) پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی کامیابی چیلنج کی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ نے انہیں نوٹس جاری کیا تھا۔

عدالت نے خواجہ آصف کو درخواست جواب جمع کروانے کا حکم دیا تھا جس میں عثمان ڈار نے الزام لگایا تھا کہ خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی کے ساتھ غیر تصدیق شدہ بیان حلفی جمع کرایاہے۔

عثمان ڈار نے عذرداری میں الزام لگایا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے ہیں۔

اس سے قبل جون میں سپریم کورٹ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو نا اہل قرار دینے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎