وہ دُعا جس کے بعد ہر ناممکن ممکن ہوجاتاہے

جن گھروں میں چھوٹے بچے ہوتے ہیں وہاں ایک واقعہ اکثر پیش آتا ہے۔ وہ یہ کہ رات کے کسی پہر میں جب دنیا نیند کے مزے لے رہی ہوتی ہے ، سوتا ہوا بچہ اپنی ماں کو پکارتا ہوا بیدار ہوجاتا ہے۔ اس کی آواز سن کر اس کی ماں بھی فوراً بیدار ہوجاتی ہے۔ بچہ بھوکا ہوتا ہے تو اسے دودھ دیتی ہے ، بستر گیلا کر دیتا ہے تو کپڑ ے بدلتی ہے۔ غرض بچے کو جو بھی تکلیف ہوتی ہے 

ماں اپنی نیند اور آرام بھول کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماں کرتی ہے۔ ماں کی یہی محبت اسے ماں بناتی ہے۔لوگ ماں کو جانتے ہیں ، خدا کو نہیں جانتے۔ لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم کہ جب خدا کو پکارا جاتا ہے تو وہ ایک ماں سے زیادہ تیزی سے اپنے بندے کی طرف لپکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ بندے کی دعا معرفت کی دعا ہو، وہ مفاد کی دعا نہ ہو۔ مفاد کی دعا وہ ہوتی ہے جس میں انسان خدا کو مسئلہ حل کرنے کی مشین سمجھ کر پکارتا ہے۔ جب دعا قبول ہوجاتی ہے تو اسے بھول جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر صرف اپنی ذات ہوتی ہے۔ خدا کی عنایت، مہربانی، صفات عالیہ اور شکر گزاری کا کوئی احساس اس کے دل میں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بہت کریم ہیں۔ وہ ایسی دعاوں کا جواب بھی دیا کرتے ہیں۔ مگر اس میں وہ انسانوں کی حکمت و مصلحت کی رعایت ضرور کرتے ہیں۔اس کے برعکس معرفت کی دعا اس دل سے نکلتی ہے جو خدا کو اس کی عنایات اور صفات کے حوالے سے جانتا ہے۔ ایسا دل بچے کی طرح ہی اپنی تکلیف پر تڑ پ کر اپنے رب کو پکارتا ہے

مگر اس کا پکارنا محض پکارنا نہیں ہوتا وہ خدا کی صفات کا اعلیٰ ترین بیان بھی ہوتا ہے۔ وہ کسی بچے کی آواز پر ماں کو اٹھتے دیکھتا ہے تو کہتا ہے ” اے رب! یہ سوئی ماں روتے ہوئے بچے کے لیے اٹھ گئی۔ میں کیسے مان لوں کہ وہ رب جسے نیند آتی ہے نہ اونگھ اپنے بندے کی آہ پر اس کے دکھ دور کرنے نہ اٹھے گا“۔یہی وہ دعا ہے جس کے بعد ہر ناممکن ممکن ہوجاتا ہے۔ آسمان و زمین کا مالک ماں سے زیادہ تیزی سے لپک کر اپنے غلام کی دستگیری کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے آج کثرت دعا کے اس دور میں یہی معرفت بھری دعا بہت کم ہے۔

آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں‎‎